🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فيما جاء فى فضلهما
ایمان اور اسلام کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 51
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ وَأَيُّ الْأَعْمَالِ خَيْرٌ؟ قَالَ: ( (إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ) ) قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَامُ الْعَمَلِ) ) قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ( (حَجٌّ مَبْرُورٌ) )
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا: کون سا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا اور کون سا عمل سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کے بعد کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد، جو کہ افضل اور اشرف عمل ہے۔ اس نے کہا: پھر کون سا، اے اللہ کے رسول!؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج مبرور۔ [الفتح الربانی/كتاب الإيمان و الإسلام/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 1658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7863 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7850»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مفہوم یہ ہے کہ اس کی ذات و صفات کو من و عن تسلیم کیا جائے اور صفات کے تقاضوں پر یقینِ کامل رکھا جائے‘ بطور مثال رزق دینا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور رزق کے لئے جائز اسباب و ذرائع استعمال کرنے کا حکم بھی اللہ تعالیٰ نے دیا ہے‘ اب جو انسان حرام وسائل کے ذریعے رزق اکٹھا کرتا ہے یا حلال اسباب استعمال کرنے کے بعد کمی کے ڈر سے صدقہ نہیں کرتا یا نماز کے وقت دوکان بند کر کے نماز نہیں پڑھتا‘ تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رزّاق ہونے کا تقاضا پورا نہیں کررہا‘ اور اسے اللہ تعالیٰ کی صفت رزق دینا پر مکمل اعتماد نہیں ہے‘ ایمان و ایقان صرف خیالی پلاؤ کا نام نہیں بلکہ اعمال کے ساتھ اس کا گہرا تعلق ہے۔ اللہ کے رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی حقانیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے افعال و اقوال و تقریرات پر عمل کیا جائے۔ حج مبرور وہ ہے جس میں حاجی اللہ تعالیٰ کی ہر قسم کی نافرمانی سے محفوظ رہتا ہے،اسی طرح اللہ کی راہ میں جہادکرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 51 in Urdu