🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. بَابُ النَّهْي عَنْ بَيْعِ النَّجْشِ، وَعَنْ بَيْعِ الرَّجُلِ عَلَى بَيْعِ أَخِيْهِ إِلَّا فِي الْمُزَايَدَةِ
بیع نجش اور آدمی کی بیع پر بیع کرنے کی ممانعت کا بیان، ما سوائے بیع مزایدہ کے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5907
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ بَيْعِ الْمُزَايَدَةِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعَ أَحَدُكُمْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ إِلَّا عَلَى الْغَنَائِمِ وَالْمَوَارِيثِ
۔ زید بن اسلم کہتے ہیں: میں نے سنا کہ ایک آدمی نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مُزَایَدہ کی تجارت کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے، ماسوائے غنیمت اور وراثت کے مالوں کے۔ [الفتح الربانی/كتاب البيوع والكسب والمعاش وما يتعلق بالتجارة/حدیث: 5907]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5398 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5398»
وضاحت: فوائد: … ”مُزَایَدہ“ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک آدمی ایک چیز کا ریٹ بتائے، پھر مالک دوسرے لوگوں سے پوچھے کہ اس سے زیادہ کون دے گا، کوئی دوسرا آدمییہ بات سن کر اس پہلے سے زیادہ قیمت لگا دے اور مالک اس کو فروخت کر دے، یہ بات تیسرے چوتھے آدمی تک بھی جا سکتی ہے۔ یہ جائز صورت ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا سودا کیا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة۔ أخرجه البيھقي: 5/ 344


Al-Fath al-Rabbani Hadith 5907 in Urdu