الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب النهي عن كراء الأرض مطلقا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6110
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ كَذَا فَقَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں زمین بٹائی پر دیتے تھے اور بسا اوقات غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے وہ دانے ہمیں ملتے تھے،جو گاہنے سے الگ نہ ہو سکے ہوں،اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اس کو خود کاشت کرےیاپھر کسی بھائی کو برائے کاشت دے دے، وگرنہ اس کو ویسے ہی چھوڑدے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6110]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: س 1177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14404»
الحكم على الحديث: أخرجه مسلم: س 1177
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6110 in Urdu