الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب النهي عن كراء الأرض مطلقا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6111
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْفَقُ نَهَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا يَمْلِكُ أَحَدُنَا رَقَبَتَهَا أَوْ مِنْحَةَ رَجُلٍ
۔ رافع کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایاہے کہ وہ کام ہمارے لئے بہتری والاتھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری ہمارے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین کسی کی ملکیت ہے یا کسی کا عطیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں بٹائی پر کام کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3397، والنسائي: 7/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15916»
الحكم على الحديث: حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3397
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6111 in Urdu