الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بابُ النَّهْي عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ مُطْلَقًا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6108
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَأْجَرَ الْأَرْضُ بِالدَّرَاهِمِ الْمَنْقُودَةِ أَوْ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے درہموں کی نقدی کے عوض یا پیداوار کے تہائی اورچوتھائی حصے کےبدلے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6108]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواهد دون لفظة ’’بالدراھم المنقودة‘‘ وھذا اسناد ضعيف، فيه انقطاع، مجاھد لم يسمع من رافع بن خديج، وشريك النخعي سييء الحفظ۔ أخرجه الترمذي: 1384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17396»
الحكم على الحديث:
صحيح بالشواهد دون لفظة ’’بالدراھم المنقودة‘‘ وھذا اسناد ضعيف
حدیث نمبر: 6109
عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ مَوْلَى رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَأَلْتُ رَافِعًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ فَقُلْتُ إِنَّ لِي أَرْضًا أُكْرِيهَا فَقَالَ رَافِعٌ لَا تُكْرِهَا بِشَيْءٍ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَزْرَعْهَا فَلْيُزْرِعْهَا أَخَاهُ فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلْيَدَعْهَا فَقُلْتُ لَهُ أَرَأَيْتَ إِنْ تَرَكْتُهَا وَأَرْضِي فَإِنْ زَرَعَهَا ثُمَّ بَعَثَ إِلَيَّ مِنَ التِّبْنِ قَالَ لَا تَأْخُذْ مِنْهَا شَيْئًا وَلَا تِبْنًا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أُشَارِطْهُ إِنَّمَا أَهْدَى إِلَيَّ شَيْئًا قَالَ لَا تَأْخُذْ مِنْهُ شَيْئًا
۔ سیدنا رافع کے غلام ابونجاشی کہتے ہیں: میں نے سیدنا رافع رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں سوال کیا اور کہا: میری زمین ہے، کیا میں اسے کرائے پر دے سکتا ہوں؟ انھوں نے کہا: اس کو کسی چیز کے عوض کرانے پر نہ دینا، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کی زمین ہو تو وہ اسے خود کاشت کرے، اگر خود کاشت نہیں کرتا تو اپنے کسی بھائی کو کاشت کرنے کے لیے دے دے اور اگر وہ اس طرح بھی نہیں کرتا تو اس کو ویسے ہی چھوڑ دے۔ میں نے کہا: جی یہ بتائیں کہ اگر میں اپنی زمین کو کاشت کے بغیر چھوڑ دیتا ہوں، لیکن اگر میرا کوئی بھائی اس کو کاشت کرتا ہے اور میری طرف کچھ چارہ بھیج دیتا ہے (تو اس میں کیا حرج ہے)؟ انھوں نے کہا: تو اس سے کچھ بھی نہ لے اور نہ چارہ۔ میں نے کہا: جی میں اس سے کوئی شرط نہیں لگاتا، بس وہ میری طرف کوئی چیز بطورِ ہدیہ بھیج دیتا ہے؟ انھوں نے کہا: اس سے کچھ بھی نہ لے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6109]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2339، ومسلم: 1548، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17267 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17399»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2339
حدیث نمبر: 6110
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُخَابِرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنُصِيبُ مِنَ الْقِصْرِيِّ وَمِنْ كَذَا فَقَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُحْرِثْهَا أَخَاهُ وَإِلَّا فَلْيَدَعْهَا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں زمین بٹائی پر دیتے تھے اور بسا اوقات غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے وہ دانے ہمیں ملتے تھے،جو گاہنے سے الگ نہ ہو سکے ہوں،اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ اس کو خود کاشت کرےیاپھر کسی بھائی کو برائے کاشت دے دے، وگرنہ اس کو ویسے ہی چھوڑدے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6110]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: س 1177، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14352 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14404»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: س 1177
حدیث نمبر: 6111
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ كَانَ يَرْفُقُ بِنَا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْفَقُ نَهَانَا أَنْ نَزْرَعَ أَرْضًا يَمْلِكُ أَحَدُنَا رَقَبَتَهَا أَوْ مِنْحَةَ رَجُلٍ
۔ رافع کے بیٹے بیان کرتے ہیں کہ ہمارے پاس سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے ہو کر آئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع فرمایاہے کہ وہ کام ہمارے لئے بہتری والاتھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی فرمانبرداری ہمارے لئے سب سے زیادہ نفع بخش ہے، تفصیل یہ ہے کہ اگر زمین کسی کی ملکیت ہے یا کسی کا عطیہ ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں بٹائی پر کام کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6111]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3397، والنسائي: 7/ 34، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15916»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3397
حدیث نمبر: 6112
عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرِ بْنِ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَال bookstoresنِّصْفِ وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا وَكَانَ يُعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ وَيُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ إِنَّ النَّبِيَّ نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ
۔ اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہم ضرورت سے زائد زمین پیداوار کے تہائی، چوتھائی اور نصف حصے پر بٹائی پر دے دیا کرتے تھے اور تین تین نالیوں، غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے دانوں اور چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی زمین کی شرط لگا لیتے تھے، جبکہ اس وقت گزران میں بڑی تنگی ہوتی تھی، پھر وہ لوگ لوہے کے آلات وغیرہ سے زراعت کرتے تھے اور ہمیں بھی نفع مل جاتا تھا لیکن ہوا یوں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اورکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں ایک ایسے کام سے روک دیا ہے، جو کہ تمہارے لئے نفع بخش تھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مندہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں بٹائی پر کھیتی باڑی کرنے سے منع کر دیا ہے اور فرمایاہے: جس کے پاس زائدزمین ہو، وہ اسے اپنے بھائی کو بلاعوض عاریۃ دے دے یا پھر اس کو خالی پڑا رہنے دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں مزابنہ سے بھی منع کر دیا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس کھجورکے درختوں پر لگا ہوا بہت زیادہ مال ہو اور اس کے پاس دوسرا آدمی آئے اور کہے: میں تجھے کھجوروں کے اتنے وسق دے کر یہ کھجوریں خریدتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6112]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398، والنسائي: 7/ 33، وابن ماجه: 2460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15908»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398
حدیث نمبر: 6113
عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَقْلِ قَالَ الْحَكْمُ وَالْحَقْلُ الثُّلُثُ وَالرُّبُعُ
۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزارعت یعنی پیداوار کے تہائی اورچوتھائی حصہ پر زمین بٹائی پر دینے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6113]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 35، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15829 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15923»
الحكم على الحديث:
صحيح۔ أخرجه النسائي: 7/ 35
حدیث نمبر: 6114
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعْهَا فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَزْرَعَهَا وَعَجَزَ عَنْهَا فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ الْمُسْلِمَ وَلَا يُؤَاجِرْهَا
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے، اگر اس کو کاشت کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور اس سے عاجز آ گیا ہو تو وہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو عطیہ کے طور پر دے دے اور اس کو کرائے پر نہ دے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6114]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2340، 2632، ومسلم: س 1176، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15211 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15281»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2340
حدیث نمبر: 6115
۔ (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانِ) قَالَ: كَانَتْ لِرِجَالِ فُضُولُ أَرْضِينَ فَكَانُوا يُوَاجِرُوْنَهَا عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَالنِّصْفِ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ: ( (مَنْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَلْيَزْرَعُهَا أَوْ لِيَمْنَحْهَا أَخَاهُ فَإِنْ أَبَى فَلْيُمْسِكْ أَرْضَهُ۔) )
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بعض لوگوں کے پاس زائد زمینیں ہوتی تھیں، وہ ان کو تہائی،چوتھائی اور نصف حصے کے عوض اجرت پر دے دیتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زمین ہو، وہ خود اس کو کاشت کرے یاپھر اپنے کسی بھائی کو بطور عطیہ دے دے، اگر وہ ایسا کام نہ کرنا چاہے تو پھر اپنی زمین کو اپنے پاس رکھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6115]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية:0
حدیث نمبر: 6116
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ لَهُ فَضْلُ أَرْضٍ أَوْ مَاءٍ فَلْيَزْرَعْهَا أَوْ لِيُزْرِعْهَا أَخَاهُ وَلَا تَبِيعُوهَا فَسَأَلْتُ سَعِيدًا مَا لَا تَبِيعُوهَا الْكِرَاءُ قَالَ نَعَمْ
۔ (تیسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس زائد زمین یاپانی ہو تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو دے دے اور اس کو فروخت نہ کرے۔ سلیم بن حیان کہتے ہیں: میں نے سعید سے پوچھا کہ فروخت نہ کرنے کامطلب کرائے پر دینا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6116]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15357»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15357
حدیث نمبر: 6117
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ الْأَرْضَ كَانَتْ تُكْرَى عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمَا عَلَى الْأَرْبِعَاءِ وَشَيْءٍ مِنَ التِّبْنِ لَا أَدْرِي كَمْ هُوَ وَأَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يُكْرِي أَرْضَهُ فِي عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَعَهْدِ عُمَرَ وَعَهْدِ عُثْمَانَ وَصَدْرِ إِمَارَةِ مُعَاوِيَةَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِهَا بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَعَمْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ
۔ امام نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے معلوم ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں چھوٹی نہروں کے پاس اگنے والی فصل اور چارے کی کچھ مقدار کے عوض زمینوں کو کرائے پر دیا جاتا تھا، میں یہ نہیں جانتا کہ چارے کی مقدار کتنی ہوتی تھی۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے زمانوں میں اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد کے شروع میں اپنی زمین کو کرائے پر دیا کرتے تھے۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا آخر دور جاری تھا کہ انہیں یہ بات موصول ہوئی کہ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین کو اس طرح کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس وہ ان کے پاس آئے، جبکہ میں نافع بھی ان کے ساتھ تھا اور اُن سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، انھوں نے کہا: جی ہاں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، پس اس کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ کام ترک کردیا اور کرائے پر زمین دینا چھوڑ دیا، پھر جب ان سے اس بارے میں پوچھاجاتا تھا تو وہ کہتے ہیں: سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کاخیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھیتوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ وَالْمُزَارَعَةِ وَكِرَاءِ الْأَرْضِ/حدیث: 6117]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2343، 2344، ومسلم: 1547، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4504 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4504»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2343