الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب النهي عن كراء الأرض مطلقا
زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں ابواب مطلق طور پر زمین کو کرایہ پر دینے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6112
عَنْ أُسَيْدِ بْنِ ظُهَيْرِ بْنِ أَخِي رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كَانَ أَحَدُنَا إِذَا اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ أَعْطَى بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ وَال bookstoresنِّصْفِ وَيَشْتَرِطُ ثَلَاثَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَةَ وَمَا سَقَى الرَّبِيعُ وَكَانَ الْعَيْشُ إِذْ ذَاكَ شَدِيدًا وَكَانَ يُعْمَلُ فِيهَا بِالْحَدِيدِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ وَيُصِيبُ مِنْهَا مَنْفَعَةً فَأَتَانَا رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْهَاكُمْ عَنْ أَمْرٍ كَانَ لَكُمْ نَافِعًا وَطَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ لَكُمْ إِنَّ النَّبِيَّ نَهَاكُمْ عَنِ الْحَقْلِ وَيَقُولُ مَنِ اسْتَغْنَى عَنْ أَرْضِهِ فَلْيَمْنَحْهَا أَخَاهُ أَوْ لِيَدَعْ وَيَنْهَاكُمْ عَنِ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَكُونَ الرَّجُلُ لَهُ الْمَالُ الْعَظِيمُ مِنَ النَّخْلِ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيَقُولُ قَدْ أَخَذْتُهُ بِكَذَا وَسْقٍ مِنْ تَمْرٍ
۔ اسید بن ظہیر کہتے ہیں ہم ضرورت سے زائد زمین پیداوار کے تہائی، چوتھائی اور نصف حصے پر بٹائی پر دے دیا کرتے تھے اور تین تین نالیوں، غلہ گاہنے کے بعد خوشوں میں رہ جانے والے دانوں اور چھوٹی نہروں سے سیراب ہونے والی زمین کی شرط لگا لیتے تھے، جبکہ اس وقت گزران میں بڑی تنگی ہوتی تھی، پھر وہ لوگ لوہے کے آلات وغیرہ سے زراعت کرتے تھے اور ہمیں بھی نفع مل جاتا تھا لیکن ہوا یوں کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اورکہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں ایک ایسے کام سے روک دیا ہے، جو کہ تمہارے لئے نفع بخش تھا، بہرحال اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہر چیز کی بہ نسبت زیادہ فائدہ مندہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں بٹائی پر کھیتی باڑی کرنے سے منع کر دیا ہے اور فرمایاہے: جس کے پاس زائدزمین ہو، وہ اسے اپنے بھائی کو بلاعوض عاریۃ دے دے یا پھر اس کو خالی پڑا رہنے دے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمہیں مزابنہ سے بھی منع کر دیا ہے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے پاس کھجورکے درختوں پر لگا ہوا بہت زیادہ مال ہو اور اس کے پاس دوسرا آدمی آئے اور کہے: میں تجھے کھجوروں کے اتنے وسق دے کر یہ کھجوریں خریدتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب المساقاة والمزارعة وكراء الأرض/حدیث: 6112]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398، والنسائي: 7/ 33، وابن ماجه: 2460، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15815 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15908»
الحكم على الحديث: اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3398
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6112 in Urdu