یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب موانع الارث
میراث کے موانع کا بیان
حدیث نمبر: 6340
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ ابْنَهُ عَمَدًا فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً وَقَالَ لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ لَقَتَلْتُكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کردیا، جب اس کا مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے بطورِ دیت اس قاتل پر تیس حِقّوں، تیس جذعوں اور چالیس دو دانتے اونٹوں کا تعین کیا اور کہا: قاتل وارث نہیں بنتا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد کو اولاد کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تو میں نے تجھے قصاصاً قتل کر دینا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6340]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2662،و الترمذي: 1400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 346»
وضاحت: فوائد: … اگر باپ بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کو قصاصاً قتل نہیں کیا جا سکتا ہے، البتہ وہ دیت ادا کرے گا، جو قتل ہونے والے کے وارثوں میں تقسیم ہو گی اور ایسے باپ کو مقتول کے ترکہ اور دیت سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل قتل کی وجہ سے اپنے مقتول کی میراث سے محروم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6340 in Urdu