🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب ميرات ابن الملاعنة والزانية منهما ومبرائهما منه وانقطاعه من الأب
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی¤اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6375
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ) )
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراثیں سمیٹتی ہے، اپنے آزاد کر دہ غلام کی، گرے پڑے بچے کی اور اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6375]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمرو بن رؤبة، وفيه بقية بن الوليد مدلس تدليس التسوية۔ أخرجه ابوداود: 2906، والترمذي: 2115، وابن ماجه: 2742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16107»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا دو روایات ضعیف ہیں، درج ذیل دو احادیث ملاحظہ ہوں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV جَعَلَ مِیْرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَۃِ لِأُمِّہٖوَلِوَرَثَتِھَامِنْبَعْدِھَا۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والے بیٹے کی میراث اس کی ماں کے لیے اور اس کے بعد اس کے ورثاء کے لیے مقرر فرمائی۔ (ابوداود: ۲۹۰۷) لعان والے ایک قصے کے بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: وَکَانَ ابْنُھَا یُنْسَبُ اِلٰی اُمِّہٖ،فَجَرَتِالسُّنَّۃُ اَنَّہٗیَرِثُھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا۔ … اس لعان والی عورت کے بیٹے کو صرف اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، پس یہ سنت جاری ہو گئی کہ ایسا بیٹا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی۔ (صحیح بخاری: ۵۳۰۹، صحیح مسلم: ۱۴۹۲) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس بچے پر میاں بیوی میں لعان ہو جائے، وہ صرف اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس کی میراث کا سلسلہ بھی صرف ماں سے ہو گا، زنا کے بچے کا بھییہی حکم ہو گا۔

الحكم على الحديث: ضعیف

Al-Fath al-Rabbani Hadith 6375 in Urdu