یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. باب ميرات ابن الملاعنة والزانية منهما ومبرائهما منه وانقطاعه من الأب
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی¤اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
حدیث نمبر: 6376
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6376]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3416»
وضاحت: فوائد: … باپ اور بیٹا نسب کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں، جبکہ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا، نسب کے لیے نکاحِ شرعی ضروری ہے، لہذا زنا کے نتیجے میں جنم لینے والی اولاد باپ کی طرف نسبت سے محروم ہو جائے گی اور ان کا باپ سے میراث کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا، ایسی اولاد کی نسبت اور میراث کا سلسلہ صرف ان کی ماں سے ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6376 in Urdu