الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ وَعِيدِ مَنْ حَمَلَ السَلاحَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ
مسلمانوں پر ہتھیار اٹھانے والے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6457
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُمَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَإِذَا نَحْنُ بِرَأْسٍ مَنْصُوبٍ عَلَى خَشَبَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: شَقِيَ قَاتِلُ هَذَا، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ تَقُولُ هَذَا، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ فَشَدَّ يَدَهُ مِنِّي، وَقَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا مَشَى الرَّجُلُ مِنْ أُمَّتِي إِلَى الرَّجُلِ لِيَقْتُلَهُ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، فَالْمَقْتُولُ فِي الْجَنَّةِ وَالْقَاتِلُ فِي النَّارِ) )
۔ عبد الرحمن بن سمیرہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ چل رہا تھا، اچانک ہم نے ایک سر دیکھا، جس کو ایک لکڑی پر لٹکایا گیا تھا، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کا قاتل بد بخت ہوا، میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! کیا تم یہ کہہ رہے ہو؟ انھوں نے اپنا ہاتھ مجھ سے چھڑاتے ہوئے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت میں سے جب کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرنے چلتا ہے تو قتل ہونے والا (آدم علیہ السلام کے بیٹے کی طرح) اس طرح کہے (اور ہاتھ نہ بڑھائے)، کیونکہ وہ مقتول جنت میں ہوگا اور قاتل دوزخ میں۔ [الفتح الربانی/مسائل القتل والجرائم الأخرى وأحكام الدماء/حدیث: 6457]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن سميرة لم يرو عنه غير عون بن ابي جحيفة، ولم يؤثر توثيقه عن احد غير ابن حبان۔ أخرجه ابوداود: 4260، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5708 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5708»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے ہابیل کے طرز عمل کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہو۔ اس نے کہا تھا: اگر تو اپنا ہاتھ میری طرف اس لیے پھیلائے گا کہ تو مجھے قتل کرے تو میں کبھی بھی اپنا ہاتھ تیری طرف پھیلانے والا نہیں تاکہ میں تجھے قتل کروں۔ (مائدہ: ۲۸) (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 6457 in Urdu