یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب ما جاء فى مشروعية ذلك
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
حدیث نمبر: 727
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ بِالْعِرَاقِ حِينَ يَتَوَضَّأُ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي: سَلْ أَبَاكَ عَمَّا أَنْكَرْتَ عَلَيَّ مِنْ مَسْحِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِذَا حَدَّثَكَ سَعْدٌ بِشَيْءٍ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ جب وہ وضو کرتے تو موزوں پر مسح کرتے تھے، میں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا، پھر ہوا یوں کہ جب ہم سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس جمَعَ ہوئے تو انھوں نے مجھے کہا: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مجھ پر جو انکار کیا تھا، ذرا اس کے بارے میں اپنے باپ سے پوچھو۔ پس میں نے یہ بات اپنے باپ سیدنا عمر ؓ کے لیے ذکر کی، انھوں نے جواباً کہا: جب سیدنا سعد ؓتم کو کوئی چیز بیان کریں تو اس کا ردّ نہ کیا کرو، کیونکہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 87، 88 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 87»
وضاحت: فوائد: … اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی صحابی کسی قول و فعل پر انکار کرے تو ضروری نہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ انکار کرنے والے کو اس سنت کا علم نہ ہو سکا ہو۔ جب سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو حدیث ِ مبارکہ کا پتہ چلا تو انھوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور مسلمان کو یہی کچھ زیب دیتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 727 in Urdu