🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. بَابٌ مَا جَاءَ فِي مَشْرُوعِيَّةِ ذَلِكَ
اس مسح کی مشروعیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 725
عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ: بَالَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ بُلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَالَ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَكَانَ يُعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ
ہَمَّام کہتے ہیں: سیدنا جریر بن عبد اللہ ؓ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ کسی نے ان سے کہا: آپ یہ مسح کر رہے ہیں، جبکہ آپ نے تو پیشاب بھی کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ابراہیم کہتے ہیں: لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند آتی تھی، کیونکہ سیدنا جریرؓ سورۂ مائدہ کے نزول کے بعد مسلمان ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 725]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 387، ومسلم: 272، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19447»
وضاحت: فوائد: … سورۂ مائدہ سے مراد یہ آیت ہے: {یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلَاۃِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْھَکُمْ وَاَیْدِیَکُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوْا بِرُئُ وْسِکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ اِلَی الْکَعْبَیْنِ} اس حدیث کی وضاحت یہ ہے کہ سورۂ مائدہ کی یہ آیت ۵ھ میں غزوۂ بنی مصطلق کے موقع پر نازل ہوئی اور سیدنا جریر ۱۰ ھ میں مسلمان ہوئے تھے۔ بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے والی احادیث کو اس آیت کے نزول سے پہلے پر محمول کیا جائے اور اس آیت میں دیئے گئے حکم کی بنا پر پاؤں کو صرف دھویا جائے اور موزوں پر مسح کرنے کی گنجائش نہ دی جائے۔ جب صحابہ کرام کو سیدنا جریرؓ کی مذکورہ بالا حدیث کا علم ہوا کہ وہ تو ۱۰ ؁ھ میں مسلمان ہوئے تھے اور وہ یہ کہتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس آیت کے نزول کے بعد بھی مسح کو جاری رکھا تھا، اس لیے اُن کو سیدناجریر ؓ کی حدیث بہت پسند آتی تھی، کیونکہ اس سے ان کا وہم دور ہو گیا تھا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 726
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَدْ مَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَاسْأَلُوا هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَسَحَ قَبْلَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ أَوْ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ، وَاللَّهِ مَا مَسَحَ بَعْدَ الْمَائِدَةِ، وَلَأَنْ أَمْسَحَ عَلَى ظَهْرِ عَابِرٍ بِالْفَلَاةِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمْسَحَ عَلَيْهِمَا
سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں پر مسح کیا، یہ بات تو ٹھیک ہے، لیکن ان لوگوں سے پوچھو تو سہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ مائدہ کے نزول سے پہلے مسح کیا یا بعد میں، اللہ کی قسم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سورۂ مائدہ کے بعد مسح نہیں کیا، مجھے تو موزوں پر مسح کرنے کی بہ نسبت یہ بات زیادہ پسند ہے کہ جنگل میں کسی راہ گیر کی کمر پر ہاتھ پھیر لوں۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 726]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن السائب كان قد اختلط۔ أخرجه الطبراني: 12287، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2975 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2975»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 727
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ بِالْعِرَاقِ حِينَ يَتَوَضَّأُ، فَأَنْكَرْتُ ذَلِكَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَلَمَّا اجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي: سَلْ أَبَاكَ عَمَّا أَنْكَرْتَ عَلَيَّ مِنْ مَسْحِ الْخُفَّيْنِ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: إِذَا حَدَّثَكَ سَعْدٌ بِشَيْءٍ فَلَا تَرُدَّ عَلَيْهِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عراق میں سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھا کہ جب وہ وضو کرتے تو موزوں پر مسح کرتے تھے، میں نے ان پر اس چیز کا انکار کیا، پھر ہوا یوں کہ جب ہم سیدنا عمر بن خطابؓ کے پاس جمَعَ ہوئے تو انھوں نے مجھے کہا: موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں مجھ پر جو انکار کیا تھا، ذرا اس کے بارے میں اپنے باپ سے پوچھو۔ پس میں نے یہ بات اپنے باپ سیدنا عمر ؓ کے لیے ذکر کی، انھوں نے جواباً کہا: جب سیدنا سعد ؓتم کو کوئی چیز بیان کریں تو اس کا ردّ نہ کیا کرو، کیونکہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موزوں پر مسح کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 727]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 202، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 87، 88 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 87»
وضاحت: فوائد: … اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر کوئی صحابی کسی قول و فعل پر انکار کرے تو ضروری نہیں کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے کہ انکار کرنے والے کو اس سنت کا علم نہ ہو سکا ہو۔ جب سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ کو حدیث ِ مبارکہ کا پتہ چلا تو انھوں نے اس پر عمل کرنا شروع کر دیا، جیسا کہ اگلی حدیث سے ثابت ہو رہا ہے اور مسلمان کو یہی کچھ زیب دیتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 728
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَاءَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ: رَأَى ابْنُ عُمَرَ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَإِنَّكُمْ لَتَفْعَلُونَ هَذَا؟ فَقَالَ سَعْدٌ: نَعَمْ، فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ سَعْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! افْتِ ابْنَ أَخِي فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كُنَّا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَمْسَحُ عَلَى خِفَافِنَا، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ؟ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَعَمْ وَإِنْ جَاءَ مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، قَالَ نَافِعٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ يَمْسَحُ عَلَيْهِمَا مَا لَمْ يَخْلَعْهُمَا وَمَا يُوَقِّتُ لِذَلِكَ وَقْتًا، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مَعْمَرًا فَقَالَ: حَدَّثَنِيهِ أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ مِثْلَهُ
نافع کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرؓ نے سیدنا سعد ؓ کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھ کر کہا: تم لوگ بھی یہ مسح کرتے ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں۔ پھر جب ہم سیدنا عمرؓ کے پاس جمع ہوئے تو سیدنا سعد ؓ نے کہا: اے امیر المؤمنین! میرے بھتیجے (ابن عمر) کو موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں فتوی دو۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ موزوں پر مسح کیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن عمر ؓ نے کہا: اگرچہ بندہ پیشاب اور پائخانہ سے فارغ ہو کر آیا ہو؟ سیدنا عمر ؓ نے کہا: جی ہاں، اگرچہ وہ پیشاب اور پائخانہ کر کے آیا ہو۔ اس کے بعد سیدنا ابن عمر ؓ جب تک موزے اتارتے نہیں تھے، اس وقت تک ان پر مسح کرتے رہتے تھے اور اس کے لیے وقت کی کسی مقدار کا تعین بھی نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 728]
تخریج الحدیث: «اسناداھ صحيحان علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن ماجه: 546، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 237»
وضاحت: فوائد: … موزوں پر مسح کرنے کے لیے مدت مقرر کی گئی ہے جس کا تذکرہ باب توقیت مدۃ المسح کے تحت آ رہا ہے۔ چونکہ صحیح روایات مرفوعہ اس بارے موجود ہیں۔ اس لیے ابن عمرؓ کا عمل ہمارے لیے حجت نہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 729
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْمُوْقِيْنِ وَالْخِمَارِ
سیدنا بلالؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 729]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث رقم: 679 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24414»
وضاحت: فوائد: … حدیث نمبر ۶۷۹کی شرح میں مُوْق کی وضاحت ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 730
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْحَدَثِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ
سیدنا عمرؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو ٹوٹ جانے کے بعد وضو کیا اور اس میں موزوں پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 730]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطيالسي: 14، والبزار: 263، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 128 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 128»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 731
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ فِي السَّفَرِ
سیدنا عمرؓ سے ہی مروی ہے، وہ کہتے ہے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سفر میں موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 731]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 387»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 732
عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ
سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ؓ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موزوں اور پگڑی پر مسح کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 732]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 205، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22482 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22849»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 733
عَنْ بِلَالٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: امْسَحُوا (وَفِي رِوَايَةٍ: مَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْخِمَارِ)
سیدنا بلالؓ سے مروی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موزوں اور پگڑی پر مسح کرو۔ (ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں اور پگڑی پر مسح کیا)۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 733]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح من فعله صلي الله عليه وآله وسلم، لا مِن قوله، و أخرجه مسلم: 275 بلفظ: مسح رسول اللّٰه صلي الله عليه وآله وسلم علي الخفين والخمار۔، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23884، 23892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24389»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 734
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ (الْأَسْلَمِيِّ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّجَاشِيَّ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُفَّيْنِ أَسْوَدَيْنِ سَاذَجَيْنِ فَلَبِسَهُمَا ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا
سیدنا بریدہ اسلمیؓ سے مروی ہے کہ نجاشی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کالے رنگ کے دو سادے موزے بطورِ تحفہ بھیجے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پہنے اور وضوکرتے وقت ان پر مسح کیا۔ [الفتح الربانی/أَبْوَابُ الْوُضُوءِ/حدیث: 734]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 155، وابن ماجه: 549، 36200، والترمذي: 2820، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22981 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23369»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں