الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مَا جَاءَ فِي الضَّبُ
سانڈا کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7293
عَنْ ثَابِتِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ وَدَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اصْطَدْنَا ضِبَابًا وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ قَالَ فَطَبَخَ النَّاسُ وَشَوَوْا قَالَ فَأَخَذْتُ ضَبًّا فَشَوَيْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَأَخَذَ عُودًا فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بِهِ أَصَابِعَهُ أَوْ يَعُدُّهَا ثُمَّ قَالَ إِنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ دَوَابَّ فِي الْأَرْضِ وَإِنِّي لَا أَدْرِي أَيَّ الدَّوَابِّ هِيَ قَالَ قُلْتُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَوَوْا قَالَ فَلَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ وَلَمْ يَنْهَهُمْ عَنْهُ
۔ سیدنا ثابت بن یزید بن وداعۃ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے سانڈے شکار کیے، جبکہ ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں نے ان کو پکایا اور بھون لیا، سیدنا ثابت کہتے ہیں: میں نے بھی ایک سانڈا شکار کیا اور اسے بھون کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لکڑی لی اور اس کی مدد سے سانڈا کی انگلیوں کو الٹ پلٹ کرنے یا ان کو گننے لگ گئے، اور پھر فرمایا: بنی اسرائیل کی ایک امت زمین پر جانوروں کی صورت میں مسخ کر دی گئی تھی، اب مجھے معلوم نہیں کہ وہ کون سا جانور تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں نے تو اسے بھون کرکھانا شروع کر دیا ہے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ اس سے کھایا اور نہ کھانے سے منع کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7293]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 3795، وابن ماجه: 3238، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17931 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18096»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے صحیح ثابت ہے کہ مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں ہوتی، سانڈے کے بارے میں یہ تردّد اس وحی سے پہلے تھا، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ مسخ شدہ قوم کی نسل نہیں ہوتی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7293 in Urdu