یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. باب فى اشتراط الطهارة قبل لبس الخفين
موزے پہننے سے پہلے باوضو ہونے کی شرط کا بیان
حدیث نمبر: 738
عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَلَا أَنْزِعُ خُفَّيْكَ؟ قَالَ: ( (لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ ثُمَّ لَمْ أَمْشِ حَافِيًا بَعْدُ) ) ثُمَّ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کووضو کروایا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چہرہ اور بازو دھوئے، پھر سر کا مسح کر کے موزوں پر بھی مسح کر دیا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں آپ کے موزوں کو اتار نہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، جب میں نے یہ پہنے تھے تو میرے پاؤں پاک تھے اور اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نمازِ فجر ادا کی۔ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 738]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 206، 5799، ومسلم: 274، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18141 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18322»
وضاحت: فوائد: … میرے پاؤں پاک تھے۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کی حالت میں تھے۔ اس کے بعد ابھی تک میں ننگے پاؤں نہیں چلا۔ ان الفاظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جن موزوں کو وضو کی حالت میں پہنا گیا ہو، ان پر مسح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ بعد میں ان کو اتارا نہ گیا ہو۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 738 in Urdu