الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ
معراض کے شکار کا بیان
حدیث نمبر: 7591
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَخَالَطَ كِلَابًا أُخْرَى فَأَخَذَتْهُ جَمِيعًا فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا أَخَذَهُ وَإِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ فَخَزَقَتْ فَكُلْ فَإِنْ لَمْ تَخْزَقْ فَلَا تَأْكُلْ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7591]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ولا تأكل من البندقة الا ما ذكيت وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه ما بين ابراهيم النخعي وعدي بن حاتم، أخرجه مطولا لكن دون ذكر صيد البندقة البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19611»
وضاحت: فوائد: … بندق سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے بنا کر خشک کر لیے جاتے ہیں اور وہ شکار کو مارے جاتے ہیں، اگر شکار مر جائے تو وہ مردار ہوتا ہے،کیونکہ وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی طرح ہوتا ہے، جس کو سورۂ مائدہ کی آیت نمبر (۳) میں حرام قرار دیا گیا ہے، ہاں اگر ایسا جانور زندہ مل جائے تو اس کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ولا تأكل من البندقة الا ما ذكيت وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه ما بين ابراهيم النخعي وعدي بن حاتم
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7591 in Urdu