یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب ما جاء فى الصيد بالمعراض
معراض کے شکار کا بیان
حدیث نمبر: 7590
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَزَقَ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میں گھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19588»
وضاحت: فوائد: … تیر کا درمیانی حصہ محض ایک لاٹھی کی مانند ہوتا ہے، اس کو معراض کہا گیا ہے، اس کے ذریعے جو شکار مر جائے گا، وہ حرام ہو گا، کیونکہ یہ حصہ تیر دھار کے حکم میں نہیں آتا اور نہ شکار میں پیوست ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7590 in Urdu