🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. باب مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ
معراض کے شکار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7590
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَزَقَ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میں گھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19588»
وضاحت: فوائد: … تیر کا درمیانی حصہ محض ایک لاٹھی کی مانند ہوتا ہے، اس کو معراض کہا گیا ہے، اس کے ذریعے جو شکار مر جائے گا، وہ حرام ہو گا، کیونکہ یہ حصہ تیر دھار کے حکم میں نہیں آتا اور نہ شکار میں پیوست ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5475


Al-Fath al-Rabbani Hadith 7590 in Urdu