الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب مَا جَاءَ فِي الصَّيْدِ بِالْمِعْرَاضِ
معراض کے شکار کا بیان
حدیث نمبر: 7590
عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَيْدِ الْمِعْرَاضِ فَقَالَ مَا أَصَابَ بِحَدِّهِ فَخَزَقَ فَكُلْ وَمَا أَصَابَ بِعَرْضِهِ فَقَتَلَ فَإِنَّهُ وَقِيذٌ فَلَا تَأْكُلْ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ جو شکار تیر کے درمیانی موٹے حصے کے لگنے سے مرے گا، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شکار کو تیر کی دھار لگے اور وہ اس میں گھس جائے اس کو کھا لو اور جب تیر کا درمیانی حصہ لگے اور شکار کو قتل کر دے تو وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی مانند ہے، پس اسے نہیں کھانا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19588»
وضاحت: فوائد: … تیر کا درمیانی حصہ محض ایک لاٹھی کی مانند ہوتا ہے، اس کو معراض کہا گیا ہے، اس کے ذریعے جو شکار مر جائے گا، وہ حرام ہو گا، کیونکہ یہ حصہ تیر دھار کے حکم میں نہیں آتا اور نہ شکار میں پیوست ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7591
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَسَمَّيْتَ فَخَالَطَ كِلَابًا أُخْرَى فَأَخَذَتْهُ جَمِيعًا فَلَا تَأْكُلْ فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّهَا أَخَذَهُ وَإِذَا رَمَيْتَ فَسَمَّيْتَ فَخَزَقَتْ فَكُلْ فَإِنْ لَمْ تَخْزَقْ فَلَا تَأْكُلْ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْمِعْرَاضِ وَلَا تَأْكُلْ مِنَ الْبُنْدُقَةِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ بھی کہو، لیکن اگر یہ کتا دوسرے کتوں کے ساتھ مل جائے تو وہ شکار نہیں کھانا، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ کس کتے نے اس شکار کو مارا ہے (جبکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے)، اسی طرح جب تم تیر پھینکو اور بسم اللہ کہی ہو اور وہ تیر شکار میں پیوست ہو گیا ہو تو اس کو کھا لو، اگر وہ پیوست نہ ہو اور تیر کے درمیانی موٹے حصے کی ضرب سے مرے ہوئے شکار کو نہ کھاؤ اور بندق کے کیے گئے شکار کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7591]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ولا تأكل من البندقة الا ما ذكيت وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه ما بين ابراهيم النخعي وعدي بن حاتم، أخرجه مطولا لكن دون ذكر صيد البندقة البخاري: 5475، ومسلم: 1929، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19392 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19611»
وضاحت: فوائد: … بندق سے مراد وہ کنکر ہیں جو مٹی سے بنا کر خشک کر لیے جاتے ہیں اور وہ شکار کو مارے جاتے ہیں، اگر شکار مر جائے تو وہ مردار ہوتا ہے،کیونکہ وہ لاٹھی سے مارے ہوئے جانور کی طرح ہوتا ہے، جس کو سورۂ مائدہ کی آیت نمبر (۳) میں حرام قرار دیا گیا ہے، ہاں اگر ایسا جانور زندہ مل جائے تو اس کو ذبح کیا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7592
وَعَنْهُ أَيْضًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا قَوْمٌ نَرْمِي بِالْمِعْرَاضِ فَمَا يَحِلُّ لَنَا قَالَ لَا تَأْكُلْ مَا أَصَبْتَ بِالْمِعْرَاضِ إِلَّا مَا ذَكَّيْتَ
۔ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم لوگ تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرتے ہیں، کیا وہ ہمارے لیے حلال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تیر کے درمیانے موٹے حصے سے شکار کرو، اس کو نہ کھاؤ، الا یہ کہ اس کو خود ذبح کر لو۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الصَّيْدِ وَ الذَّبَائِحِ/حدیث: 7592]
تخریج الحدیث: «صحيح بالطرق، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 375، وعبد الرزاق: 8531، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18258 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18447»
الحكم على الحديث: صحیح