الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ فِي إِنَّ مَا أُبَيْنَ مِنْ حَى فَهُوَ مَيْتَةٌ، وَمَا لا يَجُوزُ أَكْلُهُ مِنَ الدَّبَائِحِ
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 7619
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْكَلُ الشَّرِيطَةُ فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شریطہ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7619]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمرو بن عبد الله ليس بالقوي، أحاديثه لا يتابعه الثقات عليھا، أخرجه ابوداود: 2826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2618»
وضاحت: فوائد: … شریطہ وہ جانور ہے جس کی رگیں نہیں کاٹتے اور نہ ہی مکمل طور پر ذبح کرتے ہیں، بلکہ حلق میں معمولی کاٹتے اور جانور کو چھوڑ دیتے ہیں، جو تڑپتے تڑپتے مر جاتا ہے، یہ ظالمانہ عمل چونکہ شیطان نے بتایا تھا اور اس نے اس کو خوش نما بنا رکھا تھا، اس لیے اسے شیطان کا ذبیحہ قرار دیا گیا ہے، اس کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ ابھی جانور زندہ ہوتا تو اس کی کھال اتار دیتے تھے اور رگیں نہ کاٹتے تھے اور وہ اسی طرح مر جاتا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7619 in Urdu