🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فى إن ما أبين من حى فهو ميتة، وما لا يجوز أكله من الدبائح
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7619
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُؤْكَلُ الشَّرِيطَةُ فَإِنَّهَا ذَبِيحَةُ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شریطہ نہ کھاؤ، کیونکہ یہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7619]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمرو بن عبد الله ليس بالقوي، أحاديثه لا يتابعه الثقات عليھا، أخرجه ابوداود: 2826، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2618 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2618»
وضاحت: فوائد: … شریطہ وہ جانور ہے جس کی رگیں نہیں کاٹتے اور نہ ہی مکمل طور پر ذبح کرتے ہیں، بلکہ حلق میں معمولی کاٹتے اور جانور کو چھوڑ دیتے ہیں، جو تڑپتے تڑپتے مر جاتا ہے، یہ ظالمانہ عمل چونکہ شیطان نے بتایا تھا اور اس نے اس کو خوش نما بنا رکھا تھا، اس لیے اسے شیطان کا ذبیحہ قرار دیا گیا ہے، اس کی ایک صورت یہ بھی تھی کہ ابھی جانور زندہ ہوتا تو اس کی کھال اتار دیتے تھے اور رگیں نہ کاٹتے تھے اور وہ اسی طرح مر جاتا۔

الحكم على الحديث: ضعیف

Al-Fath al-Rabbani Hadith 7619 in Urdu