یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب فى إن ما أبين من حى فهو ميتة، وما لا يجوز أكله من الدبائح
زندہ جانور سے علیحدہ کئے ہوئے حصے کے مردار ہو نے اور ان ذبیحوں کا بیان، جن کو کھانا جائز نہیں ہے
حدیث نمبر: 7620
عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَبِهَا نَاسٌ يَعْمِدُونَ إِلَى أَلْيَاتِ الْغَنَمِ وَأَسْنِمَةِ الْإِبِلِ فَيَجُبُّونَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا قُطِعَ مِنَ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ
۔ سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہاں کچھ لوگ تھے، جو بکریوں کے سرین اور اونٹوں کی کوہانیں کاٹ کر (کھا لیتے)،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو زندہ جانور سے گوشت کاٹ لیا جائے، وہ گوشت مردار ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الصيد و الذبائح/حدیث: 7620]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2858، والترمذي باثر الحديث: 1480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21904 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22249»
وضاحت: فوائد: … اس سے جانور کو انتہائی اذیت ہوتی ہے، شریعت نے بھی کاٹے ہوئے ایسے حصے کو حرام قرار دیا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7620 in Urdu