یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. أبوب ما يجوز من ذلك ¤باب لهو الرجل مع زوجته
لہو و لعب کی جائز صورتوں کے ابواب¤خاوند کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا
حدیث نمبر: 7871
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ چیز جس کے ساتھ انسان کھیلتا ہے۔ وہ باطل ہے، ما سوائے اس کے کہ آدمی کمان سے تیر پھینکے، اپنے گھوڑے کو آداب جنگ سکھائے یا اپنی بیوی سے دل لگی کرنے کے لیے کھیلے، یہ تینوں کھیل درست ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی سیکھنے کے بعد جو اسے بھلادے، اس نے اس نعمت کی ناشکری کی، جو اس کو عطا کی گئی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7871]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بمجموع طرقه وشواھده، أخرجه ابوداود: 2513 وأخرج القطعة الاخيرة بنحوه مسلم: 1919، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»
وضاحت: فوائد: … تیر اندازی اور گھوڑے کی تربیت کا تعلق جہاد سے ہے، اس لیے یہ بڑے عظیم اعمال ہیں، البتہ عورت کے ساتھ کھیلنا، اس سے میاں بیوی کے مابین بڑی محبت پیدا ہوتی ہے، اس لیے جائز کھیل کا اہتمام کرنا چاہیے، جیسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دوڑ کا مقابلہ کیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 7871M
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ثَلَاثَةٌ رَمْيَةُ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبُهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتُهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنَ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
۔ (دوسری روایت) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (آدمی کا ہر کھیل باطل ہے) ما سوائے تین چیزوں کے: آدمی کا اپنے کمان سے تیر پھینکنا، اپنے گھوڑے کو سکھانا اور اپنی بیوی کے ساتھ کھیلنا، یہ امورِ حق ہیں، اور جو آدمی تیراندازی سیکھنے کے بعد اس کو بھلا دیتا ہے، وہ اس چیز کا کفر کرتا ہے جو اس نے سیکھی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللهو واللعب/حدیث: 7871M]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17433»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 7871 in Urdu