الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. بَابُ نَهَى الْمَرَاةَ أَنْ تَلْبَسَ مَا يُحْكِي بَدَنَهَا أَوْ تَشَبَّهَ بالرجال
عورت کے لیے اس لباس کی ممانعت کا بیان، جو اس کے بدن کو واضح کرے یا جس کی وجہ سے مردوں سے تشبیہ لازم آئے
حدیث نمبر: 8141
عَنِ ابْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ أُسَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَسَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قُبْطِيَّةً كَثِيفَةً كَانَتْ مِمَّا أَهْدَاهَا دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ لَمْ تَلْبَسِ الْقُبْطِيَّةَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَسَوْتُهَا امْرَأَتِي فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُرْهَا فَلْتَجْعَلْ تَحْتَهَا غِلَالَةً إِنِّي أَخَافُ أَنْ تَصِفَ حَجْمَ عِظَامِهَا
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے قبطی موٹی چادر دی، جو آپ کو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے ہدیہ میں دی تھی، میں نے وہ اپنی بیوی کو دے دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اسامہ! کیا وجہ ہے کہ تونے وہ قبطی چادر نہیں پہنی؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ میں نے اپنی بیوی کو دے دی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دے کہ اس کے نیچے شمیز پہنے، کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ یہ اس کے بدن کوواضح نہ کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8141]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين، أخرجه ابن ابي شيبة في مسنده، والبيھقي: 2/ 234، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22129»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ عورت کا لباس باریک نہیں ہونا چاہیے، اگر ایسا ہو تو پردہ کرنے کے لیے اس کے نیچے اور لباس پہنا جائے۔
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8141 in Urdu