🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب ما جاء فى فضل القرآن والاعتصام به
باب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8325
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ الْقُرْآنَ جُعِلَ فِي إِهَابٍ ثُمَّ أُلْقِيَ فِي النَّارِ مَا احْتَرَقَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر قرآن پاک کو چمڑے میں رکھ دیا جائے پھر آگ میں ڈال دیا جائے تو جلے گا نہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب فضائل القرآن وتفسيره وأسباب نزوله/حدیث: 8325]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني في صحيحته۔ أخرجه الدارمي في سننه: 2/430، والطحاوي في مشكل الآثار: 1/390، وأبوالقاسم بن عبدالحكم في فتوح مصر: 288، وأبويعلي في مسنده: 3/284/1745، والطبراني في المعجم الكبير: 17/308، وابن عدي في الكامل: 6/469، والبيهقي في الشعب: 2/554/2699 وفي الأسماء والصفات: 264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17365 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17499»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے کہا: مناوی نے فیض القدیر میں اس حدیث کا مفہوم واضح کرنے کے لیے لمبی اور بے فائدہ بحث کی۔ ظاہری معنی وہی ہے جو امام بیہقی جیسے محدثین نے مراد لیا۔ وہ شعب الایمان میں ابو عبد اللہ بوشنجی کے حوالے سے کہتے ہیں: یَعْنِی اَنَّ مَنْ حَمَلَ الْقُرْآنَ وَقَرَأَ ہُ لَمْ تَمَسَّہُ النَّارُ۔ جس نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر اس کو پڑھتا رہا تو اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی۔
امام احمد نے کہا، جیسا کہ الأسمائ میںنقل کیا گیا ہے: وَاِنَّ مِمَّا لاَ شَکَّ فِیْہِ: اَنَّ الْمُرَادَ حَامِلُ
الْقُرْآنِ وَحَافِظُہُ وتَالِیُہُ لِوَجْہِ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی، لاَ یَبْتَغِی عَلَیْہِ جَزَائً وَلاَ شُکُوْرًا اِلاَّ مِنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ وَاِلَّا کَانَ کَمَا قَالَ اَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ۔وَھُوَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ الْمُقْرِیئُ۔ کَمَا فِی مُسْنَدِ اَبِییَعْلٰی: ((تَفْسِیْرُہُ: اَنَّ مَنْ جَمَعَ الْقُرْآنَ ثُمَّ دَخَلَ النَّارَ فَھُوَ شَرٌّ مِنْ خِنْزِیْر۔ … بلاشک و شبہ اس حدیث کا مرادی معنییہ ہے کہ قرآن مجید کا حافظ ہو، اسے اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے پڑھتا ہو اور صرف اللہ تعالی سے اس کے اجر اور قدردانی کا امید وار ہو تو اسے جہنم کی آگ نہیں لگے گی۔ وگرنہ وہ ابو عبد الرحمن عبد اللہ بن یزید مقری کے قول کا مصداق بنے گا، جو مسند ابو یعلی میں ہے کہ جس نے قرآن مجید حفظ کیا اور پھر جہنم میں داخل ہوا وہ تو خنزیر سے بھی بدتر ہے۔(صحیحہ: ۳۵۶۲)

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 8325 in Urdu