Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب نزول القرآن على سبعة أحرف
قرآن مجید کے سات قراء توں میں نازل ہونے کا مطلب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8438
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ إِنِّي أُرْسِلْتُ إِلَى أُمَّةٍ أُمِّيَّةٍ الرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ وَالْغُلَامُ وَالْجَارِيَةُ وَالشَّيْخُ الْفَانِي الَّذِي لَا يَقْرَأُ كِتَابًا قَطُّ قَالَ إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں احجار المراء جگہ پر حضرت جبریل علیہ السلام سے ملا اور میں نے کہا: اے جبریل! میں اُمّی امت کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا گیاہوں، جس میں مرد، عورتیں، غلام، لونڈیاں اور انتہائی بوڑھے لوگ بھی ہیں، جنھوں نے کبھی کوئی تحریر نہیں پڑھی، انہوں نے کہا: قرآن مجید سات قراء توں پر نازل کیا گیا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8438]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار: 2908، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23389 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23790»
وضاحت: فوائد: … اُمّی ایسے شخص کو کہتے ہیں، جو روایتی پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8438M
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ لَقِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَهُوَ عِنْدَ أَحْجَارِ الْمِرَاءِ فَقَالَ إِنَّ أُمَّتَكَ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَمَنْ قَرَأَ مِنْهُمْ عَلَى حَرْفٍ فَلْيَقْرَأْ كَمَا عَلِمَ وَلَا يَرْجِعْ عَنْهُ قَالَ أَبُو وَقَالَ ابْنُ مَهْدِيٍّ إِنَّ مِنْ أُمَّتِكَ الضَّعِيفَ فَمَنْ قَرَأَ عَلَى حَرْفٍ فَلَا يَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ رَغْبَةً عَنْهُ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احجار المراء مقام پر جبریل علیہ السلام سے ملے، حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا:آپ کی امت سات قرائتوں میں قرآن مجید پڑھ سکتی ہے، جس کسی نے ایک قرائت پڑھ لی ہے، تو وہ اپنے علم کے مطابق پڑھتا رہے اور اس سے رک نہ جائے۔ ابن مہدی کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: جبریل علیہ السلام نے کہا: بیشک آپ کی امت میں کمزور لوگ بھی ہیں، لہٰذا جو ایک قراء ت پر پڑھ لے، وہ اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے دوسری قراء ت کی طرف نہ جائے۔ [الفتح الربانی/أبواب كيفية نزول القرآن/حدیث: 8438M]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابراهيم بن مهاجر ليس بذاك القوي، ولم يتابع عليه بھذا اللفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:23273 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23662»

الحكم على الحديث: صحیح