الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْاقْتِصَادِ فِي الْأَعْمَالِ
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8911
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا فُلَانَةٌ لِامْرَأَةٍ فَذَكَرَتْ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ ( (مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا إِنَّ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں:جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری پاس تشریف لائے تو اس وقت میرے پاس فلاں خاتون بیٹھی ہوئی تھی، میں نے اس کی نماز کا ذکر کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہنے دو، تم اپنے اوپر اتنا عمل لازم کرو، جس کی تم طاقت رکھتے ہو، اللہ کی قسم ہے، اللہ تعالیٰ اس وقت نہیں اکتاتا، جب تک تم نہ اکتا جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ کو سب سے پسند یدہ دین وہ ہے، جس پر آدمی ہمیشگی اختیار کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8911]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري43، ومسلم: 785، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24749»
وضاحت: فوائد: … یہ خاتون سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا تھیں۔
اکتانے اور نہ اکتانے سے مراد یہ ہے کہ جب تک تم مستعدی کے ساتھ عمل جاری رکھو گے، وہ اجرو ثواب اور نزولِ رحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور جب تم عمل ترک کر دو گے تو وہ اجرو ثواب کا سلسلہ منقطع کر دے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نَسُوْا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ} … انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ (سورۂ توبہ:۶۷)
اکتانے اور نہ اکتانے سے مراد یہ ہے کہ جب تک تم مستعدی کے ساتھ عمل جاری رکھو گے، وہ اجرو ثواب اور نزولِ رحمت کا سلسلہ جاری رکھے گا اور جب تم عمل ترک کر دو گے تو وہ اجرو ثواب کا سلسلہ منقطع کر دے گا، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {نَسُوْا اللّٰہَ فَنَسِیَھُمْ} … انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو بھلا دیا۔ (سورۂ توبہ:۶۷)
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري43
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8911 in Urdu