یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الاقتصاد فى الأعمال
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8912
عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ مَرَّتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتٍ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا تُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةً كَثِيرَةً فَإِذَا غَلَبَهَا النَّوْمُ ارْتَبَطَتْ بِحَبْلٍ فَتَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (فَلْتُصَلِّ مَا قَوِيَتْ عَلَى الصَّلَاةِ فَإِذَا نَعَسَتْ فَلْتَنَمْ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب سیدہ حولاء بنت تُویت رضی اللہ عنہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزریں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ خاتون رات کو بہت زیادہ نماز پڑھتی ہے اور جب اس پر نیند غالب آنے لگتی ہے تو یہ اپنے آپ کو ایک رسی کے ساتھ باندھ کر لٹکتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو چاہیے کہ جب تک اس کو طاقت ہو، یہ نماز پڑھے، لیکن جب اونگھنے لگے تو سو جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8912]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26840»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8912 in Urdu