🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الاقتصاد فى الأعمال
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8917
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَمَرَهُمْ أَمَرَهُمْ بِمَا يُطِيقُونَ مِنَ الْعَمَلِ يَقُولُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَسْنَا كَهَيْئَتِكَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ قَالَتْ فَيَغْضَبُ حَتَّى يُعْرَفَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کو عمل کا حکم دیتے تو اتنا حکم فرماتے، جس کی وہ طاقت رکھتے، لیکن جب وہ کہتے کہ اے اللہ کے رسول! بیشک ہم توآپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے گناہ معاف کر دیئے ہیں،یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے ہو جاتے،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ مبارک میں غصے کے آثار نظر آنے لگتے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8917]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 20، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24793»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی پہلی حدیث میں ایک مثال بیان ہو چکی ہے۔
قارئین ِ کرام!دین کے معاملے میں انتہائی سنجیدگی کی ضرورت ہے، یہ بات اس دین کے شایانِ شان نہیں ہے کہ خیال آ گیا تو اجر و ثواب کے بڑے بڑے کام کر دیئے اور خیال نہ آیاتو بے رخی اختیار کر لی، سنجیدگی کے ساتھ ساتھ بڑی مصلحت اور حکمت کی بھی ضرورت ہے، اس ضمن میں مساجد کے ائمہ و خطباء پر بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، ان سے
گزارش ہے کہ وہ اپنے منصب کو سمجھیں اور اپنے ارد گرد رہنے والے ہر فرد پر نظر رکھیں اور اس کی صلاحیت کے مطابق اس کی رہنمائی کا کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیں، بسا اوقات ایسے بھی ہو سکتا ہے کہ ایک آدمی اطاعت کا بڑا عمل سر انجام دینا چاہتا ہو، لیکن حالات و واقعات کو دیکھ اہل علم حکمت و بصیرت سے کام لیں اور غور کریں کہ اس آدمی کو اس عمل سے روکنا بہتر ہے یا نہیں، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض صحابہ کو بعض اعمال صالحہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔

الحكم على الحديث: أخرجه البخاري: 20


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8917 in Urdu