🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب الاقتصاد فى الأعمال
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8918
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ) )
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک یہ دین مضبوط ہے، تم اس میں نرمی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8918]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13052 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13083»
وضاحت: فوائد: … اگر ایک آدمی میں کسی تقریریا ذاتی مطالعہ کی وجہ سے تلاوت کی رغبت پیدا ہوتی ہے تو اس کو چاہیے کہ ایک ایک پاؤ یا نصف نصف پارے کی تلاوت سے اپنے عمل کا آغاز کرے، پھر مقدار کو آہستہ آہستہ بڑھاتا جائے، اگر کسی آدمی میں ہمسائیوں کے حقوق کے پورا کرنے کی رغبت پیدا ہو جائے تو اس کو چاہیے کہ وہ ایک گھر والوں کے حقوق ادا کر کے اپنی رغبت کو برقرار رکھے، پھر آہستہ آہستہ اپنی صلاحیت اور وقت کے مطابق اس سلسلے کو آگے بڑھائے۔ ہر عبادت کے بارے میں یہی قانون ہے، ما سوائے فرض عبادات کے۔ ہمارے ہاں ہوتا ہے کہ جب لوگوں میں کسی نہ کسی طرح رغبت پیدا ہو جاتی ہے تو اتنی بڑی مقدار میں عمل شروع کرتے ہیں کہ چوتھے پانچویں موقعہ پر بوریت اور اکتاہٹ میںمبتلا ہو کر مکمل عمل کو ترک کر دیتے ہیں۔
قارئین کرام! آپ غور کریں گے کہ ماہِ رمضان کے شروع ہوتے ہی لوگوں میں اعمال صالحہ کی بڑی رغبت پیدا ہوتی ہے، خاص طور پر پانچ نمازوں اور نمازِ تراویح کی، لیکن رمضان کی پانچ چھ تاریخ تک اکثر لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں میں وہ رغبت ختم ہو چکی ہوتی ہے، اس کی کیاوجہ ہے؟ یہی کہ نرمی کے ساتھ رسوخ حاصل نہیں کیا جاتا، لوگ اچانک اعمالِ صالحہ کی بڑی مقدار پر حملہ تو کر دیتے ہیں، لیکن ان کی طبیعت اور فطرت اس قدر اہل نہیں ہوتی کہ وہ ان کا ساتھ دے، سو چار پانچ دنوں کے بعد وہی گندی فطرت غالب آجاتی ہے اور ایسے لگتا ہے کہ جیسے لوگوں پر مایوسی چھا گئی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ان کو شامل حال نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 8918 in Urdu