یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الاقتصاد فى الأعمال
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8923
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أُنَاسًا كَانُوا يَتَعَبَّدُونَ عِبَادَةً شَدِيدَةً فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُكُمْ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَخْشَاكُمْ لَهُ) ) وَكَانَ يَقُولُ ( (عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: کچھ لوگ بڑی سخت عبادت کیا کرتے تھے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کیا اور فرمایا: اللہ کی قسم! بیشک میں تم میں اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ جاننے اور اس سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں، تم اتنے عمل کا اہتمام کرو، جتنے کی طاقت رکھتے ہو، پس بیشک اللہ تعالیٰ نہیں اکتائے گا، حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8923]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5861، ومسلم: 782، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25425»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8923 in Urdu