یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الاقتصاد فى الأعمال
اعمال میں میانہ روی اور اعتدال کا بیان
حدیث نمبر: 8924
عَنْهَا أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَيَسِّرُوا فَإِنَّهُ لَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ أَحَدًا عَمَلُهُ) ) قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ( (وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَحْمَةً وَاعْلَمُوا أَنَّ أَحَبَّ الْعَمَلِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راہِ صواب پر چلو، میانہ روی اختیار کرو اور آسانی پیدا کرو، پس کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا۔ صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کا عمل بھی نہیں کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں بھی ایسے ہی ہوں، الا یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ڈھانپ دے اور جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے، جس پر ہمیشگی کی جائے، اگرچہ وہ کم ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الاعتدال/حدیث: 8924]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6464، ومسلم: 2818، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25454»
وضاحت: فوائد: … دیکھیں حدیث نمبر (۸۹۰۶)
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8924 in Urdu