Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب فى الترغيب فى خصال مجتمعة من أفضل أعمال البر والنهي عن ضدها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8976
عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَحَجَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ وَصَامَ رَمَضَانَ (وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا) كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِهِ أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَأُخْبِرُ النَّاسَ قَالَ ذَرِ النَّاسْ يَا مُعَاذُ فَإِنَّ فِي الْجَنَّةِ مِائَةَ دَرَجَةٍ بَيْنَ كُلِّ دَرَجَةٍ مِائَةُ سَنَةٍ الْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ فَإِذَا سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے پانچ نمازیں ادا کیں، حرمت والے گھر کا حج کیا، رمضان کے روزے رکھے، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے، وہ اس کی راہ میں ہجرت کرے یا اسی علاقے میں سکونت اختیار کیے رکھے، جس میں پیدا ہوا تھا۔ راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زکوۃ کا ذکر کیا تھا یا نہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس حدیث کی خبر دے دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاذ! رہنے دو اور لوگوں کو نہ بتلاؤ (تاکہ وہ دوسرے نیک عمل بھی کرتے رہیں) کیونکہ جنت میں سو درجے ہیں، ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کی مسافت کا فرق ہے، جنت کا سب سے اعلی اور ممتاز درجہ فردوس ہے، اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں، اس لیے جب تم اللہ تعالیٰ سے سوال کرو تو فردوس کا سوال کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8976]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2530، وابن ماجه: 4331، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22087 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22437»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک خوبصورت نقطے کا بیان ہے اور وہ یہ کہ جتنی احادیث میں آسان عمل پر بڑے اجرو ثواب کی بشارتیں بیان کی گئی ہے، ان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرے نیک اعمال سے غفلت برتی جائے، اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہوا کہ اس حدیث کا علم بھی ہو گیا اور یہ بھی معلوم ہو گیاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خاص مصلحت کی وجہ سے اس حدیث کو بیان کرنے سے منع فرمایا تھا۔
جنت کے درجوں کے حصول کے لیے اجتہاد اور محنت کی ضرورت ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح