الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى الترغيب فى خصال مجتمعة من أفضل أعمال البر والنهي عن ضدها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8977
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسْتُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ قُلْتُ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جَلَسْتُ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلِلْإِنْسِ شَيَاطِينُ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّلَاةُ قَالَ خَيْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَاءَ أَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ أَكْثَرَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الصَّوْمُ قَالَ فَرْضٌ مَجْزٍ وَعِنْدَ اللَّهِ مَزِيدٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالصَّدَقَةُ قَالَ أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَيُّهَا أَفْضَلُ قَالَ جَهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ أَوْ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلًا قَالَ آدَمُ قُلْتُ وَنَبِيًّا كَانَ قَالَ نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمِ الْمُرْسَلُونَ قَالَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ وَقَالَ مَرَّةً وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ قَالَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ {اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ} [سورة البقرة: ٢٥٥] (وَفِي رِوَايَةٍ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ)
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، میں آیا اور بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! کیا تم نے نماز پڑھی ہے؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز پڑھو۔ پس میں نے نماز پڑھی اور پھر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! انسانوں اور جنوں کے شیطانوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگا کرو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی بالکل۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! نماز کے بارے میں کچھ فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بہترین چیز ہے، جس کو بنایا گیا ہے، جو چاہے کم پڑھ لے اور جو چاہے زیادہ پڑھ لے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! روزہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ایسا فرض ہے کہ اس کا بدلہ بھی دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مزید بھی بہت کچھ ہے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! صدقہ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کئی گنا بڑھا دیا جائے گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کم مایہ آدمی کی طاقت کے بقدر یا کسی فقیر کو چپکے سے دے دینا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سب سے پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں، نبی تھے اور ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مرسلین کی تعداد کتنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو اور پندرہ سولہ کے لگ بھگ۔ ایک روایت میں ہے: تین سو پندرہ ہے، جم غفیر ہیں۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر کون سی عظیم ترین چیز اتاری گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آیۃ الکرسی {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ}، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوری آیت تلاوت کی۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8977]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا لجھالة عبيد بن الخشخاش، ولضعف ابي عمر الدمشقي، وقال الدارقطني: المسعودي عن ابي عمر الدمشقي متروك، أخرجه النسائي: 8/ 275، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21546 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21879»
وضاحت: فوائد: … بعض انسان شیطان ہوتے ہیں، جیسا کہ سورۂ ناس میں بھی ہے، جو آدمی دوسرے کو گمراہ کرے، وہ شیطان ہے۔
انبیاء و رسل کی تعداد کے بارے میں دو طرق کے ساتھ مروی درج ذیل حدیث پر غور کریں:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ، جم غفیرہے۔
(حاکم: ۲/۲۶۲، معجم کبیر للطبرانی: ۸/۱۳۹،صحیحہ: ۳۲۸۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِـدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶)
اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنافاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۱/ ۲۴/ ۲/ ۳۹۸، معجم کبیر للطبرانی: ۸/ ۱۳۹، حاکم: ۲/ ۲۶۲،صحیحۃ: ۲۶۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
انبیاء و رسل کی تعداد کے بارے میں دو طرق کے ساتھ مروی درج ذیل حدیث پر غور کریں:
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَنَبِيٌّکَانَ آدَمَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، مُعَلَّمٌ، مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: کَمْ کَانَ بَیْنَ نُوْحٍ وَاِبْرَاھِیْمَ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالُوْا: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَالَ: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ، جَمًّا غَفِیْرًا۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ تعلیم دیے گئے تھے اور ان سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے مابین کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’دس صدیاں (یا دس زمانے)۔ اس نے کہا: نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے درمیان کتنا فاصلہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ پھر صحابہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول ہو گزرے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ، جم غفیرہے۔
(حاکم: ۲/۲۶۲، معجم کبیر للطبرانی: ۸/۱۳۹،صحیحہ: ۳۲۸۹)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث کا ایک موقوف شاہد ذکر کرتے ہوئے کہا: سیدنا عبد اللہ بن عباس نے کہا: نوح اور آدم کے مابین دس صدیاں تھیں، سارے لوگ شریعت ِ حقہ پر تھے، پھر اختلاف پڑ گیا، پس اللہ تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجنا شروع کیا، تاکہ وہ خوشخبریاں دیں اور ڈرائیں، عبد اللہ بن مسعود کی قراء ت یوں تھی: {کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِـدَۃً فَاخْتَلَفُوْا} (تفسیرطبری: ۲/ ۱۹۴، حاکم: ۲/ ۵۴۶)
اس میں ایک اہم فائدے کا بیان ہے کہ لوگ شروع میں ایک امت تھے، خالص توحید ان کا مذہب تھا، پھر بعد میں ان پر شرک کے آثار طاری ہوئے۔ اس سے ان فلسفیوں اور ملحدوں کا ردّ ہوتا ہے، جو کہتے ہیں کہ اصل میں شرک تھا، بعد میں توحید کو وجود ملا۔ (صحیحہ: ۳۲۸۹)
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اَنَبِیًّا کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ مُکَلَّمٌ۔)) قَالَ: کَمْ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ نُوْحٍ؟ قَالَ: ((عَشْرَۃُ قُرُوْنٍ۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَمْ کَانَتِ الرُّسُلُ؟ قَاَل: ((ثَلَاثُ مِئَۃٍ وَّخَمَسْۃَ عَشَرَ۔)) … ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، ان سے کلام بھی کیا گیا تھا۔ اس نے کہا: ان کے اور نوح علیہ السلام کے درمیان کتنافاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دس صدیاں۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! کل کتنے رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین سو پندرہ۔ (معجم اوسط للطبرانی: ۱/ ۲۴/ ۲/ ۳۹۸، معجم کبیر للطبرانی: ۸/ ۱۳۹، حاکم: ۲/ ۲۶۲،صحیحۃ: ۲۶۶۸)
شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ نے شواہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ابو امامہ رضی اللہ عنہ کی طویل حدیث کا ایک اقتباس یہ ہے: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلا نبی کون تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام۔ میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم نبی تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاںہاں، وہ نبی تھے، جن سے کلام بھی کیا گیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے ہاتھ سے بنایا اور پھر ان میں اپنی روح پھونکی، پھر ان سے کہا: آدم! پتلا بن جا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی تھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی تھے، ان میں رسولوں کی تعداد (۳۱۵) تھی، جم غفیر ہے۔ (احمد: ۵/ ۲۶۵)
الحكم على الحديث: ضعیف