یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى بر الوالدين وحقوقها والترغيب فى ذلك
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8992
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِئْتُ لِأُبَايِعَكَ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَلَى الْهِجْرَةِ) وَتَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ قَالَ فَارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا وَأَبَى أَنْ يُبَايِعَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: میں ہجرت پر آپ کی بیعت کرنے کے لیے آپ کے پاس آیا ہوں، لیکن میں نے اپنے والدین کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ رو رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو ان کی طرف لوٹ جا اور جیسے تو نے ان کو رلایا ہے، اسی طرح ان کو ہنسا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بیعت لینے سے انکار کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8992]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، عبد الرحمن بن جبير بن نفير لم يدرك معاذا، أخرجه بنحوه ابن ماجه: 3371، 4034، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22075 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6833»
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8992 in Urdu