الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي بِرُ الْوَالِدَيْنِ وَحُقُوقِهَا وَالتَّرْغِيْبِ فِي ذلِكَ
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8993
وَعَنْهُ أَيْضًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الشِّعْبِ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَرَدْتُ الْجِهَادَ مَعَكَ أَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَ هَلْ مِنْ أَبَوَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ كِلَاهُمَا قَالَ فَارْجِعْ ابْرَرْ أَبَوَيْكَ قَالَ فَوَلَّى رَاجِعًا مِنْ حَيْثُ جَاءَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس درخت کے نیچے دیکھا، اچانک ایک آدمی اس گھاٹی سے آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کہا اور کہا: میں آپ کے ساتھ مل کر جہاد کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں، میرا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور آخرت کے گھر کو حاصل کرنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین میں کوئی ایک زندہ ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! دونوں زندہ ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر تو لوٹ جا اور اپنے والدین کے ساتھ نیکی کر۔ پس وہ جہاں سے آیا تھا، اُدھر ہی لوٹ گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8993]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2549، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6525 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6525»
وضاحت: فوائد: … جہاد اہم فریضۂ اسلام اور بڑا مشکل عمل ہے، لیکن جہاد کی رغبت رکھنے والے کو چاہیے کہ وہ پہلے امیر کو اپنے گھر والوں کی صورتحال سے آگاہ کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2549
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8993 in Urdu