یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى بر الوالدين وحقوقها والترغيب فى ذلك
والدین کے ساتھ نیکی کرنے، ان کے حقوق اور ان امور کی ترغیب دلانے کا بیان
حدیث نمبر: 8994
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُهُ فِي الْجِهَادِ فَقَالَ أَحَيٌّ وَالِدَاكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَفِيهِمَا فَجَاهِدْ
۔ (دوسری سند) ایک آدمی جہاد کی اجازت طلب کرنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تیرے والدین زندہ ہیں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ان کی خدمت کر کے جہاد کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 8994]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6544»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کو بعض اہل علم نے صحیح اور بعض نے حسن کہا ہے۔ لیکن اس کی سند میں ابن لہیعۃ راوی ضعیف ہے اور دراج، ابو الہیثم سے بیان کرتا ہے اور یہ سند بھی اہل علم کے ہاں ضعیف ہوتی ہے۔ ہاں بعض میں ابن لہیعہ نہیں ہے۔ بہرحال اگر یہ روایت صحیحیا حسن ہے تو مذکورہ وجہ ضعف کا انجبار ہونا چاہیے ورنہ اسے صحیحیا حسن کہنا ٹھیک نہیں۔(عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8994 in Urdu