🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب الترغيب فى عظم الغيظ وعدم الغضب
غصے کو پی جانے اور غصے نہ ہونے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9179
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا ذَا يُبَاعِدُنِي مِنْ غَضَبِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ ( (لَا تَغْضَبْ) )
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ کون سی چیز مجھے اللہ تعالیٰ کے غضب سے دور کر سکتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: غصے نہ ہوا کر۔ [الفتح الربانی/مسائل الأخلاق الحسنة وما يتعلق بها/حدیث: 9179]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6635 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6635»
وضاحت: فوائد: … غصہ کی دو قسمیں ہیں: (۱) محمود اور (۲) مذموم محمود غصہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لیے ہو، یعنی جب اللہ تعالیٰ کی حرمتیں پامال کی جا رہی ہوں تو اسلامی غیرت و حمیت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان کو غصہ آنا چاہئے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شرعی حددود و قیود سے اعراض کے وقت غصے میں آجاتے تھے، لیکن اس معاملے میں بھی مصلحت اور حکمت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَکَ وَبَیْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗوَلِیٌّ حَمِیْمٌ۔} … اور نہ نیکیبرابر ہوتی ہے اور نہ برائی۔ (برائی کو) اس (طریقے) کے ساتھ ہٹا جو سب سے اچھا ہے، تو اچانک وہ شخص کہ تیرے درمیان اور اس کے درمیان دشمنی ہے، ایسا ہوگا جیسے وہ دلی دوست ہے۔ (سورۂ فصلت: ۳۴)
مذموم غصہ سے روکا گیا ہے، اس سے مراد وہ غصہ ہے، جس میں انسان اپنے مزاج کی تیزی کی وجہ سے مبتلا ہو جاتا ہے یا اپنی ذاتی چودھراہٹ اور اَنا کی بنا پر یا برادری و خاندانی عصبیتوں کی وجہ سے ذاتی مسائل میں پھنس جاتا ہے اور اسلامی قوانین کی رو رعایت رکھے بغیر غیظ و غضب کے شعلے اگلنے لگتا ہے، اس غصے سے شیطانی مقاصد پورے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حالت میں (اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ) پڑھنے کی تلقین کی ہے اور وجہ یہ بیان کی کہ اس کا جوش غضب ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ (بخاری، مسلم) ہمیں چاہئے کہ ہمارے غیظ و غضب، غیرت و حمیت اور صلح و صفائی کا معیار اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام ہوں۔ مذموم غصے کو سمجھنے کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۹۱۸۴)۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9179 in Urdu