الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِمَنْ فِي الْمَجْلِسِ
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9503
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ (وَفِي لَفْظٍ) لَا يَتَسَارَّ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9503]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2184، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3560»
وضاحت: فوائد: … جب تین افراد ایک ساتھ ہوں یا ہم سفر ہوں، تو ایسے موقع و مقام پر تیسرے کو چھوڑ کر صرف دو افراد کا باہم رازدارانہ انداز میں گفتگو کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے کی دلآزاری ہوتی ہے یا وہ بدگمانی میں مبتلاہو جاتا ہے۔
ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2184
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9503 in Urdu