Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ آدَابِ تَخْتَصُّ بِمَنْ فِي الْمَجْلِسِ
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9503
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ (وَفِي لَفْظٍ) لَا يَتَسَارَّ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی نہ کریں، کیونکہ یہ چیز اس کو پریشان کرے گی۔ ایک روایت میں ہے: دو آدمی تیسرے کو چھوڑ کر راز دارانہ بات نہ کریں، جب ان کے ساتھ کوئی اور نہ ہو۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9503]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2184، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3560 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3560»
وضاحت: فوائد: … جب تین افراد ایک ساتھ ہوں یا ہم سفر ہوں، تو ایسے موقع و مقام پر تیسرے کو چھوڑ کر صرف دو افراد کا باہم رازدارانہ انداز میں گفتگو کرنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے تیسرے کی دلآزاری ہوتی ہے یا وہ بدگمانی میں مبتلاہو جاتا ہے۔
ہاں جب لوگ زیادہ ہوں تو دو افراد کے آپس میں سرگوشی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9504
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ قَالَ وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَالِفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ وَقَالَ إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی کرنے لگ جائیں، جب ان کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ اس آدمی کی جگہ میں بیٹھا جائے جو (عارضی طور پر) مجلس سے اٹھ کر جائے، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ایسا آدمی لوٹے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9504]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4874»
وضاحت: فوائد: … شریعت نے کسی مجلس میں پہلے آنے والوں کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اگر وہ بعض وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر وہاں سے اٹھ بھی جاتے ہیں، تب بھی کسی کو ان کے مقام پر قبضہ جمانے کی اجازت نہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9505
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا قَالَ قُلْنَا فَإِنْ كَانُوا أَرْبَعًا قَالَ فَلَا يَضُرُّ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم تین افراد ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کیا کریں۔ ابو صالح راوی نے کہا: اگر چار افراد ہوں تو؟ انھوں نے کہا: تو پھر یہ چیز نقصان نہیں دے گی (یعنی پھر کوئی حرج نہیں ہو گا)۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9505]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 4852، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4685 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4685»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9506
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَدَّثَ فِي مَجْلِسٍ بِحَدِيثٍ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس بندے نے مجلس میں کوئی بات کی اور پھر وہ اِدھر اُدھر متوجہ ہوا تو وہ بات امانت ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9506]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4868، والترمذي: 1959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14528»
وضاحت: فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9507
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے چلا جائے اور پھر واپس آ جائے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9507]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10823 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10835»
وضاحت: فوائد: … بعض نمازیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ مسواک، وضو اور استنجاء کی صورت میں نماز کی تیاری کرنے سے پہلے مسجد میں آ کر پہلی صف میں کوئی کپڑا وغیرہ رکھ کر چلے جاتے ہیں اور پھر اپنے آپ کو اس جگہ کا مستحق سمجھتے ہیں۔ ان لوگوں کا یہ انداز درست نہیں ہے، کیونکہ جو آدمی مکمل تیاری کر کے آ کر ایک بار بیٹھ جائے گا، وہ جگہ اس کا حق ہو گی، تیاری کرکے آنے کے بغیر علامت وغیرہ رکھنے کا کوئی تک نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9508
عَنْ وَهْبِ بْنِ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ فَرَجَعَ إِلَيْهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ وَإِنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ فَقَامَ إِلَيْهَا ثُمَّ رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا وہب بن حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنی مجلس سے چلا جائے اور پھر واپس لوٹ آئے تو وہی اس کا زیادہ حقدار ہو گا، اگر ایسا آدمی کسی ضرورت کی وجہ سے مجلس سے چلا جاتا ہے اور پھر واپس آجاتا ہے تو وہی اس مقام پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9508]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الترمذي: 2751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15565»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9509
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ عَلَى أَصْحَابِهِ (وَفِي رِوَايَةٍ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَهُمْ حِلَقٌ) فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ وَهُمْ قُعُودٌ
۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے پاس گئے، ایک روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور وہ حلقوں کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا وجہ ہے کہ تم مجھے مختلف گروہوں کی صورت میں نظر آ رہے ہو۔ جبکہ وہ بیٹھے ہوئے تھے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9509]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 430، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21166»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: اس حدیث ِ مبارکہ میں گروہ بندی سے منع کیا گیا ہے اور اکٹھا ہونے، پہلی صفوں کو مکمل کرنے اور صفوں میںملنے کا حکم دیا گیا ہے۔ (شرح النووی لمسلم: ۴/ ۱۵۳)
بہتریہ ہے کہ اس حدیث کو درج ذیل حدیث کے مفہوم پر محمول کیا جائے:
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: وَنَھٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عَنِ التَّحَلُّقِ قَبْلَ الصَّلَاۃِیَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمعہ کے دن نماز سے پہلے حلقے بنانے سے منع کیا ہے۔ (ابو داود: ۹۹۱، نسائی: ۷۰۷)
اسی طرح نماز سے پہلے حلقے بنانا بھی منع ہو گا۔
اگر ان دو صورتوں کے علاوہ تعلیم و تربیت کے لیے مختلف حلقوں اور مجلسوں میں بیٹھنا پڑے تو جائز ہو گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9510
عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الَّذِي يَقْعُدُ فِي وَسَطِ الْحَلْقَةِ قَالَ مَلْعُونٌ عَلَى لِسَانِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ حلقے کے وسط میں بیٹھنے والے آدمی کے بارے میں کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبان کے مطابق ایسے شخص پر لعنت کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9510]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو مجلز لم يدرك حذيفة، أخرجه ابوداود: 4826، والترمذي: 2753، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23263 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23652»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9511
عَنْ حَرْمَلَةَ الْعَنْبَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوْصِنِي قَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَإِذَا كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ فَقُمْتَ مِنْهُ فَسَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا يُعْجِبُكَ فَأْتِهِ وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ مَا تَكْرَهُ فَاتْرُكْهُ
۔ سیدنا حرملہ عنبری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے وصیت فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈر اور جب تو کسی مجلس میں بیٹھا ہوا ہو اور پھر ا س سے اٹھنے لگے، لیکن جب تو سنے کہ وہ ایسی باتیں کر رہے ہیں جو تجھے پسند ہیں تو ان کے ساتھ بیٹھا رہ، اور جب تو ان کو ایسی باتیں کرتے ہوئے سنے، جو تجھے ناپسند ہوں تو اس مجلس کو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9511]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطيالسي: 1206، 1207، والطبراني في الكبير: 3476، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18927»
وضاحت: فوائد: … خیر والی مجلس سے بلا عذر نہیں اٹھنا چاہیے تاکہ آدمی اس مجلس میں بیٹھے رہنے کے اجر و ثواب سے محروم نہ ہو، بیان کرنے والے اور شرکت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہ ہو اور دوسرے لوگوں میں بھی اٹھ جانے کی ترغیب پیدا نہ ہو۔ شرّ والی مجلس میں نہ بیٹھنے کا حکم تو واضح ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9512
عَنِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا جَالِسٌ هَكَذَا وَقَدْ وَضَعْتُ يَدِي الْيُسْرَى خَلْفَ ظَهْرِي وَاتَّكَأْتُ عَلَى أَلْيَةِ يَدِي فَقَالَ أَتَقْعُدُ قِعْدَةَ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ
۔ سیدنا شرید بن سوید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، جبکہ میں اس طرح بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اپنے پیٹھ کے پیچھے رکھا ہوا تھا اور میں نے اپنے ہاتھ کے نرم حصے پر ٹیک لگائی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو ان لوگوں کی طرح بیٹھک بیٹھتا ہے، جن پر غضب کیا گیا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9512]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4848، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19683»
وضاحت: فوائد: … کمر کے پیچھے زمین پر ہاتھ کی ٹیک لگا کر بیٹھنا مکروہ ہے۔
جن لوگوں پر غضب ہوا، ان سے مراد عام کافر اور فاجر ہیں، جو اپنی اٹھک بیٹھک اور چلن پھرن میں تکبر اور عجب پسندی کو اختیار کرتے ہیں، سورۂ فاتحہ میں {اَلْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ} سے مراد یہودی ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں