الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب آداب تختص بمن فى المجلس
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9504
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ قَالَ وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُخَالِفَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي مَجْلِسِهِ وَقَالَ إِذَا رَجَعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی کرنے لگ جائیں، جب ان کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا ہے کہ اس آدمی کی جگہ میں بیٹھا جائے جو (عارضی طور پر) مجلس سے اٹھ کر جائے، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب ایسا آدمی لوٹے تو وہی اس جگہ کا زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9504]
تخریج الحدیث: «صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4874»
وضاحت: فوائد: … شریعت نے کسی مجلس میں پہلے آنے والوں کا اتنا خیال رکھا ہے کہ اگر وہ بعض وجوہات کی بنا پر عارضی طور پر وہاں سے اٹھ بھی جاتے ہیں، تب بھی کسی کو ان کے مقام پر قبضہ جمانے کی اجازت نہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح