🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب ما جاء فى الترهيب من التفاخر بالآباء فى نسب وغير ذلك
نسب وغیرہ کے معاملے میں آباء پر مفاخرت کرنے سے ترہیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9734
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُهُمَا أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ فَمَنْ أَنْتَ لَا أُمَّ لَكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عہد ِ نبوی میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں ہوں، تو کون ہے، تیری ماں نہ رہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا تھا۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح ذکر کیا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9734]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21497»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کا پورا متن یوں ہے:
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنْتَسَبَ رَجُلَان عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم: ((اِنْتَسَبَ رَجُلَانِ عَلٰی عَھْدِ مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ فَقَالَ اَحَدُھُمَا: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتّٰی عَدَّ تِسْعَۃً، فَمَنْ اَنْتَ لَا اُمَّ لَکَ؟ قَالَ: اَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانِ بْنِ الْاِسْلَامِ۔ قَالَ: فَاَوْحَی اللّٰہُ اِلٰی مُوْسٰی عَلَیْہِ السَّلَامُ اَنْ قُلْ لِھٰذَیْنِ الْمُنْتَسِبَیْنِ: اَمَّا اَنْتَ اَیُّھَا الْمُنْتَمِيْ اَوِ الْمُنْتَسِبُ اِلٰی تِسْعَۃٍ فِيْ النَّارِ، فَاَنْتَ عَاشِرُھُمْ، وَاَمَّا اَنْتَ یَا ھٰذَا الْمُنْتَسِبُ اِلٰی اثْنَیْنِ فِيْ الْجَنَّۃِ، فَاَنْتَ ثَالِثُھُمَا فِيْ الْجَنَّۃِ۔)) … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے
میں دو آدمیوں نے اپنا اپنا نسب نامہ بیان کیا۔ ایک نے کہا: میں تو فلاں بن فلاں ہوں، تیری ماں نہ رہے، تو کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو آدمیوں نے موسی علیہ السلام کے زمانے میں اپنا اپنا نسب بیان کیا، ایک نے کہا: میں فلاں بن فلاں … ہوں(نو پشتیں ذکر کردیں)، تیریماں نہ رہے تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں فلاں بن فلاں بن اسلام ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی کہ نسب بیان کرنے والے ان دو آدمیوں سے کہو: تو، جس نے نو پشتوں تک اپنا نسب بیان کیا ہے، تیری نو پشتیں بھی جہنم میں ہیں اور تو ان کا دسواں ہے۔ اور تو، جس نے دو پشتیں بیان کی ہیں، تیری دونوں پشتیں جنت میں ہیں اور تو ان کا تیسرا ہے، جو جنت میں جائے گا۔ (مسند احمد: ۵/۱۲۸)
اگر ضرورت ہو تو تعارف کے لیے باپ یا دادے کا نام پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسلام میں نسب سے برتری ثابت نہیں ہوتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((وَمَنْ بَطَّأَ بِہِ عَمَلُہُ لَمْ یُسْرِعْ بِہِ نَسَبُہُ۔)) (صحیح مسلم: ۴۸۶۷) … جس کو اس کے عمل نے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اس کو آگے نہیں لے جا سکے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 9734 in Urdu