الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنْ هَجْرِ الْمُسْلِمِ وَتَرْوِيعِهِ وَالاضْرَارِ به
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9792
عَنْ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ يَتَعَاطَوْنَ سَيْفًا مَسْلُولًا فَقَالَ لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَعَلَ هَذَا أَوَلَيْسَ قَدْ نَهَيْتُ عَنْ هَذَا ثُمَّ قَالَ إِذَا سَلَّ أَحَدُكُمْ سَيْفَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَأَرَادَ أَنْ يُنَاوِلَهُ أَخَاهُ فَلْيُغَمِّدْهُ ثُمَّ يُنَاوِلَهُ إِيَّاهُ
۔ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رضی اللہ عنہ ایسی قوم کے پاس آئے جو ننگی تلوار لے دے رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس آدمی پر لعنت کرے جو اس طرح کرتا ہے، کیا میں نے تم کو ایسا کرنے سے منع نہیں کیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی تلوار ننگی کر کے اس کو دیکھے اور پھر وہ دوسرے کو پکڑانا چاہے تو اس کو چاہیے کہ اس کو کسی چیز میں ڈھانک کر دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9792]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الحاكم: 4/ 290، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:20429 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20700»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کی حفاظت کے لیےیہ حکم دیا جا رہا ہے، تاکہ نادانستہ طور پر بھی تلوار کسی کو لگ نہ جائے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9792 in Urdu