الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَرْهِيبِ مِنْ هَجْرِ الْمُسْلِمِ وَتَرْوِيعِهِ وَالاضْرَارِ به
مسلمان سے قطع تعلقی کرنے، اس کو گھبرانے اور نقصان پہنچانے سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9793
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى نَبْلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَزِعَ فَضَحِكَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا يُضْحِكُكُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبْلَ هَذَا فَفَزِعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا
۔ عبد الرحمن بن لیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابۂ کرام نے ہم کو بیان کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے، ایک آدمی سو گیا، کچھ ساتھی اس کی طرف گئے اور اس کے تیر پکڑ لیے، جب وہ بیدار ہوا تو گھبرا گیا، لوگ ہنس پڑے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیوں ہنس رہے ہو؟ انھوں نے کہا: جی کوئی بات نہیں ہے، بس ہم نے اس کے تیر پکڑ لیے تو وہ گھبرا گیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مسلمان کو گھبرا دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9793]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 5004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23064 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23452»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((لَا یَأْخُذَنَّ أَحَدُکُمْ مَتَاعَ أَخِیہِ لَاعِبًا وَلَا جَادًّا وَمَنْ أَخَذَ عَصَا أَخِیہِ فَلْیَرُدَّہَا۔)) … کوئی آدمی ہر گز اپنے بھائی کا سامان نہ اٹھائے، نہ ہنسی مذاق میں اور نہ حقیقت میں سچے طور پر، جس نے اپنے بھائی کی لاٹھی بھی لی ہے، تو وہ اسے واپس کر دے۔ (ابوداود: ۵۰۰۳، ترمذی: ۲۱۶۰)
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
مسلمان کی جان و مال اور عزت و آبرو انتہائی محترام و محفوظ چیزیں ہیں، ہنسی مذاق میں بھی کسی کی ہتک کر دینایا مال ہڑپ کر لینا حرام ہے۔
آج کل تو لوگ جان بوجھ پہلے کسی کی چیز چرا لیتے ہیں، اور پھر ملنے کی خوشی میں اس پر کچھ کھلانے پلانے کا جرمانہ ڈال دیتے ہیں، ایسا کرنا کسی طرح درست نہیں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 9793 in Urdu