الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
306. الآية (26) قوله تعالى: {للذين أحسنوا الحسنى وزيادة}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1061 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1061
سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: " لَيْسَ فِي تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ اخْتِلافٌ، إِنَّمَا هُوَ كَلامٌ جَامِعٌ يُرَادُ بِهِ هَذَا وَهَذَا" .
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: قرآن کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں ہے، دراصل وہ جامع کلام ہے جس سے یہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ بھی۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وضاحت: سفیان رحمہ اللہ کا یہ قول ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے جو قرآن کی تفسیر میں بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے:
جب صحابہ کرام یا تابعین قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں اور ان میں بظاہر مختلف اقوال آتے ہیں تو یہ اختلاف تضاد والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت اور جامعیت ہوتی ہے کہ ان میں ایک سے زیادہ معانی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کسی آیت کے اندر ایک حکم، ایک نصیحت اور ایک عبرت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ پس اگر ایک مفسر ایک معنی کو بیان کرے اور دوسرا مفسر دوسرے معنی کو، تو یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں قرآن کے الفاظ اور سیاق کے مطابق ہوں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔
جب صحابہ کرام یا تابعین قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں اور ان میں بظاہر مختلف اقوال آتے ہیں تو یہ اختلاف تضاد والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت اور جامعیت ہوتی ہے کہ ان میں ایک سے زیادہ معانی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کسی آیت کے اندر ایک حکم، ایک نصیحت اور ایک عبرت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ پس اگر ایک مفسر ایک معنی کو بیان کرے اور دوسرا مفسر دوسرے معنی کو، تو یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں قرآن کے الفاظ اور سیاق کے مطابق ہوں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔
الحكم على الحديث: سنده صحيح.