🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

306. الْآيَةُ (26) قَوْلُهُ تَعَالَى: {لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1058 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1058
نَا نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ سورة يونس آية 26 قَالَ:" الزِّيَادَةُ: غُرْفَةٌ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ، لَهَا أَرْبَعَةُ أَبْوَابٍ غُرَفُهَا وَأَبْوَابُهَا مِنْ لُؤْلُؤَةٍ وَاحِدَةٍ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَى وَزِيَادَةٌ﴾ (جنہوں نے نیکی کی ان کے لئے بہترین بدلہ اور مزید کچھ ہے) کے بارے میں فرمایا: زیادتی ایک موتی کا حجرہ ہے جس کے چار دروازے ہیں، اس کی عمارت اور دروازے سب ایک ہی موتی کے بنے ہوں گے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف للانقطاع بين الحكم بن عتيبة وعلي رضي الله عنه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1059 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1059
نَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ، قَالَ: " الزِّيَادَةُ: النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ" .
عبد الرحمن بن سابط رحمہ اللہ نے کہا: زیادتی اپنے رب عزوجل کے چہرے کی طرف دیکھنا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 1059، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 36112»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لما تقدم عن حال الليث بن أبي سليم.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1060 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1060
نَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ:" سُئِلَ عَنِ الزِّيَادَةِ، قَالَ: الْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا" .
علقمہ رحمہ اللہ سے زیادتی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: نیکی کا بدلہ دس گنا دیا جائے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده فيه قابوس، وتقدم الكلام فيه، لكنه لم ينفرد به، بل تابعه الأعمش فروايته تتقوى بهذه المتابعة إن سلم الخبر من تدليس الأعمش، فإنه لم يصرح بالسماع.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 1061 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1061
سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: " لَيْسَ فِي تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ اخْتِلافٌ، إِنَّمَا هُوَ كَلامٌ جَامِعٌ يُرَادُ بِهِ هَذَا وَهَذَا" .
سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سفیان رحمہ اللہ کو کہتے ہوئے سنا: قرآن کی تفسیر میں کوئی اختلاف نہیں ہے، دراصل وہ جامع کلام ہے جس سے یہ بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور وہ بھی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
وضاحت: سفیان رحمہ اللہ کا یہ قول ایک بنیادی اصول بیان کرتا ہے جو قرآن کی تفسیر میں بہت اہم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے:
جب صحابہ کرام یا تابعین قرآن کی کسی آیت کی تفسیر کرتے ہیں اور ان میں بظاہر مختلف اقوال آتے ہیں تو یہ اختلاف تضاد والا نہیں ہوتا۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ قرآن کے الفاظ میں اتنی وسعت اور جامعیت ہوتی ہے کہ ان میں ایک سے زیادہ معانی بیک وقت مراد لیے جا سکتے ہیں۔ جیسے کسی آیت کے اندر ایک حکم، ایک نصیحت اور ایک عبرت بھی شامل ہو سکتی ہے۔ پس اگر ایک مفسر ایک معنی کو بیان کرے اور دوسرا مفسر دوسرے معنی کو، تو یہ دونوں باتیں درست ہو سکتی ہیں بشرطیکہ دونوں قرآن کے الفاظ اور سیاق کے مطابق ہوں۔
یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ تفسیر کرتے وقت ہمیں گھٹا کر ایک ہی مطلب پر اصرار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آیت کی وسعت کو تسلیم کرنا چاہیے۔
➤ مثال: آیت: «وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا» [نوح: 17]
کسی نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ انسان مٹی سے پیدا ہوا، اور کسی نے کہا کہ انسان کی روزی مٹی سے پیدا ہوتی ہے (یعنی زمین سے اناج نکلتا ہے)۔ تو دونوں معانی درست ہو سکتے ہیں، کیونکہ دونوں قرآن کے مزاج کے مطابق ہیں۔

الحكم على الحديث: سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں