🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
13. باب لا يتوارث أهل ملتين
مختلف ملتوں کے افراد میں وراثت نہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 144 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1321
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مِيرَاثِ عَمَّةٍ لَهُ يَهُودِيَّةٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ , قَالَ لَهُ عُمَرُ :" أَجِئْتَنِي فِي مِيرَاثِ الْمُغْزِلَةِ بِنْتِ الْحَارِثِ؟ فَقَالَ: أَوَلَسْتُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا؟ قَالَ: أَهْلُ مِلَّتِهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، وَلا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ" .
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اشعث بن قیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی یہودی پھوپھی کے وراثت کے بارے میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تم مغزلہ بنت حارث کی میراث لینے آئے ہو؟ اشعث نے کہا: کیا میں اس کا زیادہ حقدار نہیں؟ فرمایا: اس کے دین والے اس کے زیادہ حقدار ہیں، دو ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب ولاية العصبة/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «إسنادہ صحیح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1893، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3031، 3032، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 138، 140، 141، 144،وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31795، 32089»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي