سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
13. باب لا يتوارث أهل ملتين
مختلف ملتوں کے افراد میں وراثت نہ ہونے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 144 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1321
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ الأَشْعَثَ بْنَ قَيْسٍ وَفَدَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي مِيرَاثِ عَمَّةٍ لَهُ يَهُودِيَّةٍ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ , قَالَ لَهُ عُمَرُ :" أَجِئْتَنِي فِي مِيرَاثِ الْمُغْزِلَةِ بِنْتِ الْحَارِثِ؟ فَقَالَ: أَوَلَسْتُ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا؟ قَالَ: أَهْلُ مِلَّتِهَا مِنْ أَهْلِ دِينِهَا، وَلا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ" .
شعبی رحمہ اللہ نے کہا: اشعث بن قیس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس اپنی یہودی پھوپھی کے وراثت کے بارے میں حاضر ہوئے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم مغزلہ بنت حارث کی میراث لینے آئے ہو؟“ اشعث نے کہا: ”کیا میں اس کا زیادہ حقدار نہیں؟“ فرمایا: ”اس کے دین والے اس کے زیادہ حقدار ہیں، دو ملتوں والے ایک دوسرے کے وارث نہیں ہوتے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب ولاية العصبة/حدیث: 1321]
تخریج الحدیث: «إسنادہ صحیح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 1893، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3031، 3032، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 138، 140، 141، 144،وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31795، 32089»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي |