سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
87. باب الرجل يتزوج المرأة فيدخل عليها ومعها نساء فوقع على امرأة منهن
باب: اس شخص کا بیان جو نکاح کے بعد غلطی سے کسی اور عورت سے ہمبستر ہو جائے۔
ترقیم دار السلفیہ: 1015 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2192
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ , وَالْحَارِثِ الْغَنَوِيِّ، فَتَذَاكَرُوا هَذَا الْبَابَ، فَقَالَ حُمَيْدٌ: " يُسْأَلانِ الْبَيِّنَةَ، وَإِلا أُقِيمُ عَلَيْهَا الْحَدُّ". وَقَالَ الْحَارِثُ الْغَنَوِيُّ:" الْقَوْلُ قَوْلُهَا، وَلا حَدَّ عَلَيْهِمَا" . فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ أَقْبَلَ ابْنُ شُبْرُمَةَ , فَقَالَ حُمَيْدٌ لِلْحَارِثِ: هَذَا ابْنُ شُبْرُمَةَ , وَهُوَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ , فَأَقْبَلَ ابْنُ شُبْرُمَةَ حَتَّى جَلَسَ، فَسَأَلَهُ حُمَيْدٌ، فَقَالَ ابْنُ شُبْرُمَةَ بِقَوْلِ إِبْرَاهِيمَ.
حضرت حمید طویل اور حارث غنوی رحمہما اللہ نے اس بارے میں اختلاف کیا۔ حمید نے کہا: ”گواہی لائی جائے ورنہ حد لگے گی۔“ حارث نے کہا: ”عورت کی بات معتبر ہے، حد نہیں لگے گا۔“ پھر ابن شبرمہ آئے اور ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے حضرت ابراہیم رحمہ اللہ کے قول کی تائید کی۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب النكاح/حدیث: 2192]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»