سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
95. حبلك على غاربك ونحو ذلك من الكنايات
طلاق کی کنایہ الفاظ: ’’تیری رسی تیرے کندھے پر‘‘ اور اس جیسے دیگر الفاظ ادا کرنے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1158 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2335
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُمَا قَالا فِي رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِهِ: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، وَلا سَبِيلَ لِي عَلَيْكِ، وَالطَّرِيقُ لَكِ وَاسِعٌ، قَالا:" إِنْ كَانَ نَوَى الطَّلاقَ , فَهِيَ وَاحِدَةٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا، وَإِنْ لَمْ يَنْوِ طَلاقًا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" .
حضرت حسن بصری اور عامر شعبی رحمہما اللہ نے فرمایا: جو بیوی سے کہے: اپنے گھر چلی جا، یا کہے کہ میرا کوئی حق تجھ پر نہیں یا راستہ تیرے لیے کھلا ہے، اگر طلاق کی نیت ہو تو ایک طلاق ہے اور شوہر بیوی کا زیادہ حق دار ہے، اور اگر نیت نہ ہو تو کچھ نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 2335]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»