سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
162. باب المرأة تلد لستة أشهر
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
ترقیم دار السلفیہ: 2084 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3261
نا نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ إِذَا أَذِنَ لَهُ مَوْلاهُ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام کو مالک کی اجازت سے باندی سے تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2084، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13965، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12836، 12845، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16535»
وضاحت: حجاج بن أرطاة:، صدوق، مدلس، کثیر الخطأ
مسئلہ: کیا غلام تسری کر سکتا ہے؟
اصل اصول:
تسری (یعنی باندی سے تعلق) مالک کے لیے جائز ہے، غلام چونکہ خود مالک نہیں ہوتا، اس لیے: باندی اس کے لیے "محل وطی" نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے دے
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اجتہادی فتویٰ ہے کہ: "اگر آقا اجازت دے دے تو غلام بھی تسری کر سکتا ہے"
فقہاء احناف و مالکیہ کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے:
فقہی مسلک ◄ موقف
احناف: غلام تسری نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے
بعض مالکیہ و اہل الظاہر اجازت کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابن عمر کا قول
✅ نتیجہ:
یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)،
لیکن مضمون کے لحاظ سے ایک معتبر فقہی قول کو ظاہر کرتا ہے
جو ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے فقیہ صحابی کا فتویٰ ہے
مسئلہ: کیا غلام تسری کر سکتا ہے؟
اصل اصول:
تسری (یعنی باندی سے تعلق) مالک کے لیے جائز ہے، غلام چونکہ خود مالک نہیں ہوتا، اس لیے: باندی اس کے لیے "محل وطی" نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے دے
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اجتہادی فتویٰ ہے کہ: "اگر آقا اجازت دے دے تو غلام بھی تسری کر سکتا ہے"
فقہاء احناف و مالکیہ کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے:
فقہی مسلک ◄ موقف
احناف: غلام تسری نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے
بعض مالکیہ و اہل الظاہر اجازت کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابن عمر کا قول
✅ نتیجہ:
یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)،
لیکن مضمون کے لحاظ سے ایک معتبر فقہی قول کو ظاہر کرتا ہے
جو ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے فقیہ صحابی کا فتویٰ ہے
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي |