سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
165. باب ما جاء في المرأة تسلم قبل زوجها
باب: اُس عورت کا بیان جو اپنے شوہر سے پہلے مسلمان ہو جائے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2109 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3286
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، نا حَجَّاجٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَدَّ زَيْنَبَ ابْنَتَهُ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بْنِ الرَّبِيعِ بِنِكَاحٍ أَحْدَثَهُ" .
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص بن ربیع کے پاس نئے نکاح کے ساتھ واپس کیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3286]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 6758، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1142، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2010، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2109، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14180، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3625، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7057، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12648، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 5264، والطبراني فى «الكبير» برقم: 456»
قال ابن عبدالبر: حجاج بن أرطاة لا يحتج بحديثه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 208)
قال ابن عبدالبر: حجاج بن أرطاة لا يحتج بحديثه، نصب الراية لأحاديث الهداية: (3 / 208)
وضاحت: وضاحت: اس روایت میں دو باتیں قابلِ غور ہیں: یہ پچھلی دو روایات (2107 و 2108) سے مخالفت رکھتی ہے: وہاں نکاح پہلا ہی باقی رکھا گیا یہاں نیا نکاح کرایا گیا بتایا گیا۔ یہ روایت سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة) اور پہلے سے صحیح سند کے ساتھ ثابت روایات کے مخالف بھی ہے اس لیے اسے راجح نہیں مانا جائے گا
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
راجح یہی ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو ابو العاص کے اسلام لانے کے بعد بغیر نئے نکاح کے واپس کیا — پہلے نکاح کو ہی بحال رکھا۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي