الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
198. باب ما جاء في فضل البحر والشهيد فيه
باب: سمندر میں شہادت کی فضیلت
ترقیم دار السلفیہ: 2400 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3577
نا أَبُو الْحَرِيشِ الْقَصَّارُ قَالَ: أنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّهَا قَالَتْ: لَوْ كُنْتُ رَجُلا لَمْ أُجَاهِدْ إِلا فِي الْبَحْرِ، وَذَلِكَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَصَابَهُ مَيْدٌ فِي الْبَحْرِ كَالْمُتَشَحِّطِ فِي دَمِهِ فِي الْبَرِّ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”اگر میں مرد ہوتی تو صرف سمندر میں جہاد کرتی، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جسے سمندر میں چکر آئے وہ زمین پر خون میں لت پت شہید کی طرح ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3577]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
سند میں ایک راوی مبہم ہے (عن رجل) → ضعیف جداً، متن کی تائید صحیح احادیث (جیسے: 2395) سے موجود ہے۔
سند میں ایک راوی مبہم ہے (عن رجل) → ضعیف جداً، متن کی تائید صحیح احادیث (جیسے: 2395) سے موجود ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدا
الرواة الحديث:
اسم مبهم ← عائشة بنت أبي بكر الصديق