🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
219. باب رسائل النبي صلى الله عليه وسلم ودعوته
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوط اور دعوت کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2481 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3658
نا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى النَّجَاشِيِّ وَنَحْنُ نَحْوٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلا، فِيهِمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُرْفُطَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، وَأَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ، فَأَتَوَا النَّجَاشِيَّ، وَبَعَثَتْ قُرَيْشٌ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ، وَعُمَارَةَ بْنَ الْوَلِيدِ بِهَدِيَّةٍ، فَلَمَّا دَخَلا عَلَى النَّجَاشِيِّ سَجَدَا، ثُمَّ ابْتَدَرَاهُ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالا لَهُ: إِنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عَمِّنَا نَزَلُوا أَرْضَكَ، وَرَغِبُوا عَنَّا وَعَنْ مِلَّتِنَا، قَالَ: فَأَيْنَ هُمْ؟ قَالا: هُمْ فِي أَرْضِكَ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ جَعْفَرٌ: أَنَا خَطِيبُكُمُ الْيَوْمَ , فَاتَّبَعُوهُ، فَسَلَّمَ وَلَمْ يَسْجُدْ، فَقَالُوا لَهُ: مَا لَكَ لا تَسْجُدُ لِلْمَلِكِ؟ قَالَ: إِنَّا لا نَسْجُدُ إِلا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ فِينَا رَسُولا،" وَأَمَرَنَا أَنْ لا نَسْجُدَ إِلا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَرَنَا بِالصَّلاةِ وَالزَّكَاةِ"، قَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: فَإِنَّهُمْ يُخَالِفُونَكَ فِي عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأُمِّهِ، قَالُوا: نَقُولُ: هُوَ كَمَا قَالَ اللَّهُ، قَالُوا: هُوَ كَلِمَةُ اللَّهِ وَرُوحُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ الْعَذْرَاءِ الْبَتُولِ الَّتِي لَمْ يَمَسَّهَا بَشَرٌ وَلَمْ يَفْرِضْهَا وَلَدٌ، قَالَ: فَرَفَعَ عُودًا مِنَ الأَرْضِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مَعْشَرَ الْحَبَشَةِ وَالْقِسِّيسِينَ وَالرُّهْبَانِ! وَاللَّهِ مَا يَزِيدُونَ عَلَى مَا نَقُولُ فِيهِ مَا يَسْوَى هَذَا، مَرْحَبًا بِكُمْ وَبِمَنْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِهِ، أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهُ الَّذِي نَجِدُهُ فِي الإِنْجِيلِ، وَأَنَّهُ الَّذِي بَشَّرَ بِهِ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، فَانْزِلُوا حَيْثُ شِئْتُمْ، وَاللَّهِ لَوْلا مَا أَنَا فِيهِ مِنَ الْمُلْكِ لأَتَيْتُهُ، حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أَحْمِلُ نَعْلَيْهِ، وَأُوَضِّئُهُ، وَأَمَرَ بِهَدِيَّةِ الآخَرِينَ فَرُدَّتْ إِلَيْهِمَا، ثُمَّ تَعَجَّلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَدْرًا، وَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" اسْتَغْفَرَ لَهُ حِينَ بَلَغَهُ مَوْتُهُ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نجاشی کے پاس بھیجا، ہم تقریباً اسی آدمی تھے، جن میں سیدنا عبداللہ بن مسعود، سیدنا جعفر بن ابی طالب، سیدنا عبداللہ بن عرفطہ، سیدنا عثمان بن مظعون، اور سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہم شامل تھے۔ ہم نجاشی کے پاس پہنچے۔ قریش نے عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ اور عمارہ بن ولید کو ہدیہ دے کر بھیجا۔ جب وہ دونوں نجاشی کے پاس پہنچے تو اس کے سامنے سجدہ کیا اور پھر اس کے دائیں اور بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ پھر کہنے لگے: ہمارے کچھ قبیلے کے لوگ آپ کی سرزمین میں آ گئے ہیں، انہوں نے ہمارا دین چھوڑ دیا ہے۔ نجاشی نے پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: آپ کی سرزمین میں ہیں۔ تو نجاشی نے ان کو بلوایا۔ سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا: آج میں تمہاری طرف سے بات کروں گا۔ چنانچہ سب ان کے پیچھے چلے۔ سیدنا جعفر نے سلام کیا لیکن سجدہ نہیں کیا۔ نجاشی کے درباریوں نے کہا: تم نے بادشاہ کو سجدہ کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے جواب دیا: ہم اللہ عزوجل کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کرتے۔ پوچھا گیا: ایسا کیوں؟ کہا: اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان ایک رسول مبعوث فرمایا اور ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کو سجدہ کریں اور نماز و زکوٰۃ ادا کریں۔ اس پر عمرو بن عاص نے کہا: یہ لوگ عیسیٰ ابن مریم اور ان کی والدہ کے بارے میں آپ کی رائے کے خلاف رائے رکھتے ہیں۔ نجاشی نے ان سے پوچھا: تم عیسیٰ اور مریم کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: ہم وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: وہ اللہ کا کلمہ اور اس کی روح ہیں، جو اس نے مریم، عذراء، پاکیزہ عورت، پر ڈال دی، جسے نہ کسی بشر نے چھوا، نہ وہ کسی سے حاملہ ہوئی۔ یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: اے اہل حبشہ، اے پادریوں اور راہبوں! اللہ کی قسم، یہ لوگ جو عیسیٰ کے بارے میں کہتے ہیں، وہ اس تنکے کے برابر بھی ہم سے مختلف نہیں۔ پھر کہا: تم پر خوش آمدید ہو اور اس ہستی پر بھی جس کی طرف سے تم آئے ہو۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، وہی جن کا ذکر ہم انجیل میں پاتے ہیں، اور وہی جن کی بشارت سیدنا عیسیٰ ابن مریم نے دی تھی۔ تم جہاں چاہو رہو۔ اللہ کی قسم، اگر مجھے بادشاہت کی مصلحت نہ ہوتی تو میں خود جا کر ان کی خدمت کرتا، ان کی جوتیاں اٹھاتا اور ان کے وضو کا پانی فراہم کرتا۔ پھر اس نے عمرو بن عاص اور عمارہ بن ولید کی ہدیہ لوٹا دی۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جلدی وطن واپس آ گئے اور بدر میں شریک ہوئے۔ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب ان کی وفات کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3658]
تخریج الحدیث: «إسنادہ حسن، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 4268، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2481، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3990، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4486، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 344، والبزار فى «مسنده» برقم: 1761»
وله شواهد من حديث أبي هريرة الدوسي، فأما حديث أبي هريرة الدوسي، «أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1245، 1318، 1327، 1333، 3880، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 951»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن مسعود، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥عبد الله بن عتبة الهذلي، أبو عبيد الله، أبو عبد الله، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن عتبة الهذلي ← عبد الله بن مسعود
له رؤية
👤←👥أبو إسحاق السبيعي، أبو إسحاق
Newأبو إسحاق السبيعي ← عبد الله بن عتبة الهذلي
ثقة مكثر
👤←👥حديج بن معاوية الجعفي، أبو سليمان
Newحديج بن معاوية الجعفي ← أبو إسحاق السبيعي
صدوق يخطئ
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3658 in Urdu